ڈی کے شیوکمارپر عائد مقدمہ،واپس لینا جمہوریت کا خون ہے:ایشورپا

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
شیموگہ:۔آمدنی سے زیادہ جائیدادرکھنے کے الزام میں نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمارپر عائدمقدمے کو منسوخ کرنا جمہوریت کا خون ہے،ڈی کے شیوکمارکے خلاف چل رہے مقدمے کو منسوخ نہیں کرناچاہیے۔اس بات کا اظہار بی جے پی لیڈرکے ایس ایشورپانے کیا ہے ۔ انہوں نے آج یہاں پریس کانفرنس میں بات کرتے ہوئے کہاکہ کانگریس پارٹی اکثریت کے ساتھ حکومت میں آئی ہے،ریاست کے135 مقامات پر کامیابی حاصل کرنے کے بعد جو کام نہیں کرنے چاہیےاُن تمام کاموں کو انجام دیاجارہاہے۔ڈی کے شیوکمارکی سالانہ آمدنی23 کروڑ روپئے تھی،یہ آمدنی بڑھ کر163 کرور روپئے ہوگئی ہے،اس وجہ سے یڈی یورپانے اپنے دورِ اقتدارمیں اس معاملے کی جانچ سی بی آئی کے حوالے کی تھی۔ڈی کے شیوکماراس معاملے میں عدالت سے رجوع کرچکے ہیں، وہاں ان کی عرضی منسوخ ہوچکی ہے،یہ بات پورے ملک کو معلوم ہوچکی ہے۔سی بی آئی کی جانچ آخری مرحلے میں ہے،ایسے میں چوروں کا مرکز بنے ہوئے کابینہ میں ان کے مقدمے کومنسوخ کرنے کا فیصلہ لیاگیاہے،داکوئوں کے گروہ نے اپنے سردارکی بات پر ڈی کے شیوکمارکا ساتھ دیاہے۔مزید انہوں نے کہاکہ اس سے پہلے وزیر داخلہ رہے چکے کے جے جارج پر الزامات لگے تھے،اُس وقت وہ مستعفی ہوچکے تھے،پھر دوبارہ کابینہ میں شامل ہوئے،جب مجھ پر الزامات عائدہوئے تو میں بھی مستعفی ہواتھا،لیکن یہاں کھلے عام کابینہ کا غلط استعمال کیا جارہاہے۔ایشورپانے کہاکہ سدرامیاکو کُرسی اہم ہے انصاف نہیں،آئین کے تعلق سے تقریریں کرنےوالے سدرامیا کو کیا اُن باتوں کا احساس نہیں ہے،کانگریس لیڈروں کو شرم آنی چاہیے۔ملک میں کانگریس پارٹی کو عوام نے مستردکردیاہے،کرناٹک میں گیارنٹی منصوبوں کے تحت عوام کو دیکر اقتدارمیں آئے ہیں، آنےوالےانتخابات میں کانگریس پارٹی کوعوام معقول سبق سکھائیگی۔