شیموگہ :۔شہر کے نیومنڈلی سروے نمبر257پر موجود قدیم قبرستان پر عدالتی احکامات کے مطابق صفائی کا کام شروع ہوچکا ہے۔ قدیم قبرستان ہونے کے شواہد موجود رہنے کے باوجود یہاں کے اسسٹنٹ کمشنر کورٹ نے اس زمین کو ڈیپارٹمنٹ آف آرکیالوجیکل (آثار قدیمہ) کے حوالے کرنے کے احکامات جاری کئے تھے۔ عدالت کے اس فیصلے کے خلاف اس قبرستان کی نگران کمیٹی جو سوائی پالیہ جامع مسجد کمیٹی کہلاتی ہے اس نے اوپری عدالت سے رجوع کیا ،جہاں پر اس معاملے کی سنوائی چل رہی ہے اور عدالت اس معاملے کواسی عدالت میں سنوائی کیلئے لینا ہے یا نہیں اس پر 8دسمبر کو فیصلہ سنائیگی۔مگر شہرمیں امن وامان کی پرواہ کئے بغیر آج ریونیو ڈیپارٹمنٹ کے اہلکاروں نے موقع پر پہنچ کر قبرستان کی صفائی کاسلسلہ شروع کیا،اس پر کمیٹی کےاراکین نے مزاحمت کی جبکہ سابق کارپوریٹر مظہر جاویداور ایس ڈی پی آئی کے ضلعی رکن جیلان رضا سمیت کئی نوجوانوں نے اس حرکت کی شدید مخالفت کی۔ باوجود اس کے محکمہ کے اہلکاروں نے پولیس فورس منگواکر اس جگہ کی صفائی کا کام شروع کیا،لگ بھگ 200 پولیس اہلکاروں نے اس جگہ کی گھیرا بندی کی تھی۔کمیٹی کی طرف سےاہلکاروں کو صرف صفائی کیلئے موقع فراہم کئے جانے کی بات کہی جارہی ہے ، جبکہ محکمہ کا کہناہے کہ اس زمین پر سروے بھی کیاجائیگا،لیکن اس بات پر اب تک کمیٹی نے رضامندی ظاہرنہیں کی ہے۔واضح ہوکہ کل کمیٹی کے اراکین نے اس سمت میں امن وامان بحال رکھنے اور پاکی صفائی و سروے کے کام کو رکوانے کیلئے سابق وزیر اعلیٰ سدرامیا اور ریاستی وقف بورڈکے صدر شفیع سعدی سے بھی ملاقات کی ،تو دونوں ہی قائدین نے ڈپٹی کمشنر کو براہ راست رجوع کرتے ہوئے شہرمیں امن وامان بحال رکھنے کیلئے قبرستان کے تعلق سے مداخلت نہ کرنے کی گذارش کی مگر ڈپٹی کمشنر اپنی ضد پر اڑے رہے اورآج صبح اس کام کو انجام دیا۔
