پی یوسی کے نتائج ظاہر نہ کریں :کرناٹکاہائی کورٹ کی ہدایت

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
بنگلورو:۔پی یو سی سال دوم کے نتائج کو ظاہر نہ کرنے کیلئے کرناٹکا ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کو احکامات جاری کئے ہیں۔ ریپیٹرس طلباء نے بھی انکے نتائج کو ظاہر کرنے یا پھرامتحانات کے ذریعہ سے ہی نتائج دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کرناٹکا ہائی کورٹ میں مقدمہ دائر کیا تھا، جس کی سنوائی کررہے ہائی کورٹ نے حکومت کو جواب داخل کرنے کی اجازت دی تھی اورجب تک جواب دائر نہیں کیا جاتا اورریپیٹرس کا مسئلہ حل نہیں کیا جاتا اس وقت تک نتائج پیش نہیں کئے جائیں۔ سال 2020-21 کےتعلیمی سال میں پی یو سی سال دوم کے طلباء کو بغیر امتحان کے ہی پاس کرنے کے احکامات ریاستی حکومت نے جاری کئے تھے، اس پر بنگلورو کی گنیانا مندرا ایجوکیشن ٹرسٹ کے ایس وی سنگے گوڑا نے ہائی کورٹ میں عرضی دائر کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھاکہ یا تو ریپٹرس طلباء کو بھی بغیر امتحان کے پاس کیا جائے ، یا پھر سب کا امتحان لے کر جوابی پرچوں کی بنیادپر ہی نتائج ظاہر کئے جائیں ۔ اس دوران پی یو بورڈ کے ڈپٹی ڈائریکٹر کی جانب سے تیار شدہ میموکو حکومت کے وکیل نے آج عدالت کو بتایا کہ ریاست میں 92.5 لاکھ طلباء پی یو سی کے ہیں اور76 ہزار طلباء ریپٹرس ہیں، ان طلباء کو پاس کرنے کا معاملہ ابھی بورڈ میں ترتیب دیا جارہا ہےاس کیلئے 12 ماہرین کی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ جنہیں اگلے 15 دن میں رپورٹ پیش کرنی ہے۔ اس رپورٹ کی بنیاد پر ریاستی حکومت انہیں پاس کرنا ہے یا نہیں اس پر فیصلہ لے گی۔ عدالت نے پی یو بورڈ کے اس جواب کو درج کرنے کے بعدپی یو بورڈ کو بتایا کہ حکومت فریشراورریپیٹرس کے درمیان اختلاف رائےنہ رکھے بلکہ تمام کو ایک جیسا سمجھتےہوئے ایک ہی نظام رائج کرے۔ جب تک ماہرین کی رائے سامنے نہیں آتی اس وقت تک پی یو کے نتائج ظاہر نہ کریں اوراگلی سنوائی 4جولائی کو کی جائے۔ پچھلی سنوائی میں ہائی کورٹ نےریپٹرس کے مسئلے کو حل کئے بغیر ہی فریشرکو پاس کرنے کیلئے جوفیصلہ لیا گیا ہےاس پر اعتراض جتایا تھا اوریہ سوال کیا تھاکہ کیا ریپٹرس کیلئےکورونا نہیں ہے؟۔ عدالت کے اس فیصلے کے بعد خوی امکانات نظرآرہے ہیں کہ ریپیٹرس طلباء کو بھی بغیر امتحان کے پاس کردیا جائےگا۔