سجن رے جھوٹ مت بولو ، خدا کے پاس جانا ہے!

ایڈیٹر کی بات سلائیڈر نمایاں

از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327
وزیر اعظم نریندرمودی نے ملک سے خطاب کرتے ہوئے اس بات کا اعلان کیا کہ مرکزی حکومت کی طرف سے نافذ کئے گئے 3 زرعی قوانین کو کسانوں کے غیر مطمئن ہونے پر واپس لیا جارہا ہے اوراسکا فیصلہ پالیمان میں کیا جائیگا۔ جیسے ہی وزیر اعظم نریندرمودی نے اس بات کا اعلان کیا تو سوشیل میڈیا پرلوگ 3گروہ میں بٹ گئے، پہلا گروہ وزیر اعظم نریندرمودی کی تعریفوں کے پل باندھ رہاتھا، انکی خوش آمدکررہا تھا انکی واہ واہی کررہاتھا وہ گروہ انہیں سوپر ہیروکی طرح پیش کررہاتھا ، خود نیشنل میڈیا جو کل تک یہ کہہ رہا تھا کہ مودی حکومت ملک کے غداروں کے سامنے نہیں جھکے گی، وہی میڈیا آج کہہ رہی ہے کہ مودی جی کو کسانوں پر رحم آگیا اوروہ کسانوں کے قوانین کو منسوخ کرچکے ہیں۔ مودی جی کی تعریف اس حوالے سے بھی کی جارہی ہے کہ مودی نے کسانوں کی لاج رکھی اور انکی خواہش کے مطابق زرعی قوانین کو اپس لے لیا۔مودی کی دریادلی کی مثال بالکل ویسی ہی ہے جیسے کہ انہوں نے پچھلے دنوں پٹرول کی قیمت میں45 روپئے کا اضافہ کرنے کے بعد5 روپئے کی کٹوتی کی تھی،اب اس دفعہ پہلے تو انہوں نے خودہی زرعی قانون کو نافذکروایا،پھر کسانوں کو احتجاج کیلئے مجبورکیا،اُن پر لاٹھیاں برسائی،اُن پر گولیاں چلوائی،قریب 700 کسانوں کی موت کے بعد مودی جی نے گرونانک جینتی کی مبارکباد دیتے ہوئےآج زرعی قوانین کو واپس لینے کااعلان کیا۔دوسرا گروہ وہ ہے جو وزیر اعظم نریندرمودی کے فیصلے پراپنی رائے رکھتے ہوئےکہہ رہاہے کہ وہ آنے والے انتخابات کے پیش نظر ان قوانین کو واپس لینے کا فیصلہ لئے ہوئے ہیں اور وہ انتخابات میں اپنی شکست کو دیکھتے ہوئے قبل از وقت پٹرول اور زرعی قوانین کے معاملات میں فیصلے لے رہے ہیں۔تیسراگروہ وہ ہے جو حکومت سے سوال کررہاہے کہ این آر سی اور سی اے اے کوکب واپس لیاجائیگا،کب این آر سی اور سی اےاے کیلئے دوبارہ آوازاٹھے گی اور بعض تو ایسے خوش ہورہے ہیں جیسےمودی نے ہر بھارتی شہری کی دل کی مراد پور کررہے ہیں،لیکن بھارت کے شہری کو اپنی رائے منفی ومثبت رکھنے سے پہلے یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ مودی صرف من کی بات کرسکتے ہیں،من کی مراد پوری نہیں کرسکتے۔وی ایسے سجن ہیں جوجھوٹ کی بنیادپر اگلے الیکشن میں جانے کی تیاری کررہے ہیں۔پہلے15لاکھ،بعد میں نوٹ بندی،بعد میں کالادھن،پھر اس کے بعد لازمی روزگار،اس کے بعدقیمتوں میں کمی،بھارت میں صنعتوں کاآغازجیسےدعوئے پہلے ہی پیش کئے جاچکےہیں او ریہ تمام دعوئے آج تک پورے نہیں ہوئے۔جب بھارت کے کسانوں کی جان پرواہ مودی جی کو نہیں ہے تو خاک وہ قوانین کو ہٹائینگے۔اگر وہ قوانین کوہٹاتے بھی ہیں تو یقین جانئیے کہ یہ قوانین رنگ روپ بدل کر پھر ایک مرتبہ اس ملک کے کسانوں کو کھوکھلاکرنے آجائینگے۔وہیں دوسری جانب مودی کےفیصلے کے بعدبعض مسلمان بھی توقع کررہے ہیں کہ ان کیلئے اچھے دن آئینگے۔این آر سی اور سی اےاے کے قوانین واپس ہونگے اور انہیں تحفظ فراہم ہوگا۔اگر یہ سوچ ذہنوں میں پنپ رہی ہے تو سمجھ لیجئے کہ یہ آپ کی خوش فہمی ہے ،کیونکہ مودی کو اس طرح کے فیصلے لینے کیلئے مجبور ہوناپڑاہے۔کسانوں کی مستقل مزاجی اور عزم کودیکھتے ہوئے مودی کو مجبور ہوناپڑااور کسانوں نے اپنی پوری تحریک میں سیاست اور سیاستدانوں کو دوررکھا،لیکن اس وقت کے مسلمان جو این آر سی اور سی اےاے کی واپسی کوتصورکررہے ہیں وہ تو آج کل اپنے ہر معاملے میں سیاست ہی سیاست کررہے ہیں۔سیاست کاجنون اس قدر طاری ہوچکاہے کہ وہ اپنے گھروں میں ہو نے والی شادیوں سے لیکر جنازوں تک سیاستدانوں کی موجودگی کو شرف سمجھنے لگے ہیں۔بغیر ایم ایل اے ،ایم پی کے عیدکی نماز پڑھنے کیلئےتیارنہ ہونے والے مسلم قائدین اور لیڈران جب اپنے احتجاجات کامطالبہ کرنے کاموقع آتاہے تو اپنوں سے زیادہ غیروں کوترجیح دینے لگتے ہیں۔چاپلوسی،مفادپرستی اور چمچہ گری کاعالم یہ ہے کہ وہ اپنے مسلم قائدین پر ہرگز ہرگز بھروسہ نہیں کرتے،بلکہ جومسلمانوں کے دشمن رہے ہیں اور جن کا تعلق کبھی سیکولرزم سے ہوتاہے،تو کبھی کمیونلزم کا اوڑھنا اوڑکرگھومتے ہیں۔ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ پہلے اپنے اندرکی تال میل قائم کریں،اتحادکی بات کی جاتی ہے و ہ تو ممکن نہیں ہو پارہاہے،کم ازکم اپنے اپنے طو رپرمعرکیں تیارکریں۔جس مقصدکیلئے آواز اٹھائی جاتی ہے،اُسی مقصد پر قائم رہیں،نہ کہ اسمبلی اور پارلیمانی انتخابات کےپیش نظر مفادات کے بیج بوئے۔جب قوم ہی پیچھے نہیں رہے گی تو قوم کے نام پر سیاست کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔