بزمِ امیدِ فردا کے زیرِ اہتمام ’’ایک ملاقات عرفان شاہ نوری کے ساتھ‘‘ 

اسٹیٹ نیوز
بنگلورو:۔ بزمِ امیدِ فردا کے زیرِ اہتمام ’’ایک ملاقات عرفان شاہ نوری کے ساتھ‘‘کا انعقادکیاگیاتھا۔نشست کا آغاز سید عرفان اللہ کی تلاوتِ آیاتِ ربانی سے ہوئی اورناظمِ نشست صبا انجم عاشی نے عرفان شاہ نوری کی لکھی ہوئی نعت ترنم میں پیش فرمائی۔ عرفان شاہ نوری نے جہاں علاقایات و گروپ بندی پر اپنا کرب بیان کیا وہیں آپ نے اس طرف بھی اشارہ دیا کہ’’ ریاستوں میں اردو زبان و ادب کی تئیں لوگوں میں اب رجحان بدل رہا ہے۔ اب لوگ اردو کومعیشت سے نہیں بلکہ ادب سے محبت کے طور پر اپنے بچوں کو سکھا رہے ہیں۔ جہاں پہلے والدین کے ذہنوں میں اردو ایک زبان تھی اب تہذیب و تمدن بن کر ابھر رہی ہے یہ خوش آئند بات ہے۔‘‘ صبا انجم اور آن لائن آنے والے سوالات کا آپ نے اطمینان بخش جواب دیا اور آن لائن ناظرین کی فرمائش پر آپ نے اپنے کئی کلام سے محظوظ فرمایا جس پر خوب داد و تحسین پیش کی گئی۔ عرفان شاہ نوری سے جب نئے لکھنے والوں کے تعلق سے سوال کیا گیا تو آپ نے یوں کہا کہ ’’نئے لکھنے والے ہمیشہ عجلت میں ہوتے ہیںاور بہت جلد بازی کرتے ہیں۔ اگر شاعر ہو تو وہ چاہتے ہیں فوری ان کو مشاعروں کے لئے دعوت دی جائے اور تمام اخبارات میں انکی تخلیقات شائع ہو جائیں‘‘۔ آگے فرمایا کہ ’’دنیا میں الفاظ کے استعمال کرنے والے تین لوگ ہوتے ہیں پہلا صحافی ہوتا ہے جو سرخی میں ہی اپنی رپورٹ  کی بنیاد ڈال دیتا ہے اور اس کا یہی کام ہوتا ہے زمانہ کو جو بھی خبر ہے اس کا عکاس ہو بہ ہو ڈالے یا پیش کرے۔ دوسرافلسفی جو لفظوں کو یوں استعمال کرتا ہے کہ قاری کو سوچنے پر مجبور کرے اور ایک مستقال سوچ کے بعد قاری مفہوم تک پہنچ جاتا ہے اور تیسرا شاعرجو ان دونوں سے بڑا ہوتا ہے شاعر اپنی تخلیق سے قاری کی فکر کو اپنے لفظوں میں بیان کرتا ہے جسے صرف محسوس کیا جاسکتا ہے سمجھا نہیں جا سکتا۔آخر میں عرفان شاہ نوری نے لکھنے والوں کو اتنا کہا کہ ’’آپ مطلع کے ساتھ ساتھ لکھتے رہیں۔ اور خود اس کو قاری کی نظر سے پرکھیں۔ ضروری نہیں ایک ہی بار میں ایک مصرعہ یا شعر ہو جائے۔ اپنے کلام کو ذہنی وقت دیں اور اس وقت تک کوشش کرتے رہیں جب تک کہ آپ کی روح مطمئن نہیں ہوتی‘‘۔ نشست کی نظامت محترمہ صبا انجم عاشی نے فرمائی۔ سید عرفان اللہ، سرپرست و بانی، بزمِ امیدِ فردا نے تمام آن لائن ناظرین و مہمانِ خاص کا شکریہ ادا کیا اور ساتھ ساتھ تمام اخبارات و رسائل کا بھی شکریہ ادا کیا جن میں بزمِ امیدِ فردا کے اعلانات و روداد برابر شائع ہو رہے ہیں اور اسکی کے ساتھ ملاقاتی نشست کے اختتام کا اعلان ہوا۔