مذہب وذات کی بنیاد پر غریبوں کو غذا سے محروم نہ کریں: ڈبلیو پی آئی

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
بنگلورو: اسکولی بچوں کو دئے جانے والے انڈوں کو ذات اورمذہب کی بنیاد بناکر محروم نہ کیا جائے۔ اس بات کا اظہار ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کے ریاستی صدر اڈوکیٹ طاہر حسین نے کیا ہے۔ انہوں نے اپنے اخباری بیان میں کہا ہے کہ بچوں میں تغذیہ بخش غذائوں کی کمی کی وجہ سے کمزوریاں آرہے ہیں، ایسے میں حکومت کی جانب سے انڈہ دینے کے منصوبے سے فائدہ ہوا ہے۔ دستور کے مطابق کھانے ، پینے کا حق کسی سے چھینا نہیں جاسکتا، سرکاری اسکولوں میں آنے والےبیشتر طلباء غریب ہوتے ہیں ایسے بچوں میں ہی زیادہ تر تغذیہ بخش غذائوں کی کمی کی وجہ سے بیماریاں زیادہ ہوتے ہیں۔ دھرم وذات کی بنیاد پر غذائی حق چھیننا قابل مذمت ہے ۔ نیتی آیوگ کے مطابق ریاست میں اس وقت 347051بچے غذائی قلت کا سامنا کررہے ہیں۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ ذات پات کی بنیاد کو اہمیت دینے کے بجائے بچوں کی صحت پر توجہ دیں۔ آج کے بچے کل کے بھارت کا مستقبل ہیں۔ ان بچوں کو صحت مند بنایا حکومت کی ذمہ داری قوت بخش غذائوں کو روکنا ایک طرح کی سازش ہے۔ سبزی خوربچوں کیلئے علیحدہ انتظام کیا جائے۔ سبزی خور اورگوشت خور بچوں کو یکساں سمجھنا اورانکی غذا پر روک لگانا مناسب نہیں ہے۔ حکومت بچوں سے غذا چھیننے کی کوشش نہ کرے۔