شیموگہ:۔کالج جانے والے طلبا کیلئے اسکالرشپ اور بس کے مسئلہ کو حل کرنے کا مطالبہ لیکراکھیلا بھارت ودیارتھی پریشد(اے بی وی پی ) نے اچانک احتجاج کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر دفتر کے سامنے سڑک بلاک کرکے احتجاج کرنے لگے اورجب تک ڈپٹی کمشنر خود یہاں نہیں پہنچیں گے احتجاج کو جاری رکھنے کی مانگ کرنےلگے۔بتایا جارہا ہے کہ اےبی وی پی نے اچانک احتجاج کرتےہوئےمطالبہ کیا کہ کوویڈ کے دوسرے لاک ڈاؤن کے بعد ریاست میں اسکول اور کالج کھلے مہینوں گذر گئےہیں۔ اسی کے ساتھ کئی کئی کورسس میں طلباء جلد ہی امتحان کیلئےتیار ہو رہے ہیں۔لیکن حکومت کی جانب سے کالجوںکے طلباء کیلئےایس ایس پی اسکالرشپ مناسب طور پر تقسیم نہیںکی جارہی ہےاور شہر کے کئی علاقوں اور شہرکے باہری علاقوں میں موجود ہاسٹلوں کیلئے مناسب بس کی سہولیات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔مظاہرین نےمطالبہ کیا کہ سال 2020-2001 میں، ریاستی حکومت نےایس سی/ ایس ٹی، پسماندہ اور اقلیتی طبقات کے طلباء کو ایس ایس پی کے تحت اسکالرشپ کیلئے درخواست طلب کی گئی تھی۔ اس سلسلے میں طلباء گزشتہ 3 ماہ سے اسکالرشپ کیلئے عرضیاں داخل کررہے ہیں ۔ سرکاری کوٹہ کے بہت سے طلباء کو ابھی تک سکالرشپ نہیں ملاہے۔ لہٰذا حکومت سے مطالبہ ہے کہ فوری طور پر باقی تمام طلباء کو اسکالر شپ دی جائے۔مزید کہا کہ زیادہ ترطلباء کیلئے بنائے گئےسرکاری ہاسٹل شہر سے باہر واقع ہیں اور ان حصوں سے شہر کے کالجوں تک جانے کیلئےبس کا کوئی مناسب نظام میسرنہیں ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بس کا مناسب نظام قائم کیا جائے۔تنظیم کی مانگ تھی کہ جب تک ڈپٹی کمشنر احتجاج کی جگہ پر خود آکر درخواست قبول نہیں کریںگے راستہ بند ہی رہےگاجس کی وجہ سے قریب ایک گھنٹہ تک یہاں ٹرافک نظام درہم برہم رہا ۔ اڈیشنل ڈپٹی کمشنر ناگیندر ہوناہلی نے جگہ پر پہنچ کر میمورنڈم قبول کیا ہے اور احتجاج میں وجئے گوڑا،اے بی وی پی کارکن موجودتھے۔
