اسکول کے بچوں کوانڈے نہ دینے کامطالبہ جرم ہے:وشواناتھ

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
میسورو:۔اسکول کے بچوں کومڈڈے میل میں انڈوں کونہ دیا جائے،یہ کہناخودجرم ہے ۔بچوں میں انڈے نہ دینے کی بات جرم سے کم نہیں ہے۔غذا،کھاناہرکسی کااپناانفرادی حق ہے،اس کی مخالفت کرنے کاحق کسی کوبھی حاصل نہیں ہے۔یہ کہتے ہوئے اسکول بچوں کوانڈے دینے کی مخالفت کرنے والوں کورکن کونسل ایچ وشواناتھ نے کراراجواب دیا۔بیلگاوی میں شروع ہوئے اسمبلی کے سرمائی سیشن شرکت سے قبل انہو ں نے کہاکہ رپورٹ کے مطابق بچے نقض تغذیہ کی وجہ سے موت کی نیندسورہے ہیں،نقض تغذیہ کی ایشیائی فہرست میں ہندوستان سرفہرست ہے۔بچوں کوصحت منداورتوانارہنے کیلئے ضروری ہے کہ انہیں مڈڈے میل کے ساتھ انڈے بھی فراہم کئے جائیں۔انڈے ہی نقض تغذیہ کامرہم ہے۔ایسی حالت میں بچوں کوانڈے نہ دئے جائیں کہناسب سے بڑاجرم اورگناہ ہے۔انہوں نے کہاکہ انڈے میں غذائیت بھرپورچیزیں ہیں،انڈے فراہم کئے جانے سے بچوں کوغذائیت سے بھرپورکھاناحاصل ہوتا ہے۔ اس پس منظرمیں انڈے کوویجی ٹیرئن بھی کہہ سکتے ہیں۔اس لیے میرا کہناہے کہ غذاؤں کے سلسلہ میں کسی کوبھی تبصرہ کرنے کاحق نہیں ہوناچاہئے۔ایک کی غذاایک کیلئے زہربھی ہوسکتی ہے۔انسانی غذااس کااپناحق ہے اس لیے کسی بھی شخص کوکھانے کے سلسلہ میں ہم پابند نہیں بناسکتے کہ آدمی یہ کھائے وہ نہ کھائے۔کھاناان کابنیادی حق ہے اس کوکوئی چھین نہیں سکتا۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ دستوری حق کے تناظرمیں حکومت کوچاہئے کہ وہ اسکول بچوں کوانڈے فراہم کرے۔غذائی آزادی ہرکسی کوحاصل ہے،اس لیے انڈے کی مخالفت کرنے والوں کے معاملہ میں حکومت کوسنجیدگی دکھانے کی ضرورت ہے،بچوں کوان کی پسند کی غذافراہم کی جائے۔