بھوپال:۔مدھیہ پردیش میں جونیئر ڈاکٹروں نے حکومت کے سخت موقف سے ناراض ہوکر اجتماعی استعفی دیدیا ہے۔ چھ نکاتی مانگوں کو لیکر جونیئر ڈاکٹروں کی چار روز سے ہڑتال جاری تھی ۔ جونیئر ڈاکٹروں کی ہڑتال پر مفاد عامہ کے تحت دائرکی گئی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے جب جبلپور ہائی کورٹ نے جونیئر ڈاکٹروں کی ہڑتال کو غیر واجب قرار دیا تو حکومت نے بھی ہڑتال کو لیکر اپنے موقف کو اور سخت کیا اور جونیئر ڈاکٹروں سے ہڑتال ختم کرکے کام پر واپس آنے کی جہاں اپیل کی وہیں یہ بھی انتباہ دیا کہ اگر جونیئر ڈاکٹر ہڑتال ختم نہیں کرتے ہیں تو ان کے خلاف ایسما کے تحت سخت کاروائی کی جائے گی ۔ وہیں جونیئر ڈاکٹروں کی ہڑتال کو کانگریس کے ذریعہ حمایت کا اعلان کرنے کے بعد مدھیہ پردیش میں ایک اور سیاسی گھمسان شروع ہوگیا ہے ۔واضح رہے کہ مدھیہ پردیش میں جونیئر ڈاکٹر اپنے چھ نکاتی مطالبات کو لیکر گزشتہ تین سالوں سے وقت وقت پر احتجاج کرتے رہے ہیں ۔جونیئر ڈاکٹروں نے اپنے مطالبات کو لیکر انتیس مئی کو حکومت کو میمورنڈم پیش کیاتھا اور مطالبات پورے نہیں ہونے پر اکتیس مئی سے ایمرجنسی سروس اور یکم جون سے کووڈ مریضوں کا علاج بند کر ہڑتال شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ حکومت کے ذریعہ اس بیچ جونیئرڈاکٹروں کے مطالبات کو لیکر کئی زبانی اعلان تو کیاگیا لیکن تحریری طور پر کچھ نہیں کیاگیا ۔ جبکہ جونیئر ڈاکٹر حکومت سے مطالبات کو لیکر تحریری طور پر لکھ کر دینے کا مطالبہ کرتے رہے ۔ اسی بیچ جونیئر ڈاکٹروں کی ہڑتال کے خلاف سماجی کارکن شیلیندر سنگھ کے ذریعہ جبلپور ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کے تحت عرضی دائر کی گئی جس پر سماعت کرتے ہوئے جبلپور ہائی کورٹ نے ہڑتال کو غیر واجب قرار دیا بلکہ جونیئر ڈاکٹروں کی سرزنش کرتے ہوئے انہیں چوبیس گھنٹے کے اندر کام پر لوٹنےکی ہدایت دی ۔ ہائی کورٹ کی سرزنش کے بعد حکومت نے اپنا سخت موقف اختیار کرتے ہوئے جونیئر ڈاکٹروں کو کام پر واپس لوٹنے کی ہدایت دیتے ہوئے جب ان کے خلاف ایسما کے تحت کاروائی کرنے کی دھمکی دی تو جونیئر ڈاکٹروں کا غصہ بھڑک گیا اور انہوں نے اجتماعی استعفی پیش کرتےہوئے اپنے حقوق کو لیکر ہڑتال جاری رکھنے کا اعلان کردیا ۔مدھیہ پردیش کے تین ہزار جونینئر ڈاکٹروں نے اپنا اجتماعی استعفی پیش کردیا ہے۔مدھیہ پردیش کے تین ہزار جونینئر ڈاکٹروں نے اپنا اجتماعی استعفی پیش کردیا ہے۔
