بات چیت سے مسائل کوحل کریں:جج مصطفیٰ حُسین

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
شیموگہ:۔بات چیت اور آپسی مفاہمت سے معاملات کوحل کرنے کیلئے شیموگہ ضلع کورٹ کے جج مصطفیٰ حُسین نے گذارش کی ہے ۔ انہوں نے آج نیشنل لوک عدالت کے تعلق سے تفصیلات دیتے ہوئے کہاکہ 18 دسمبر کو شیموگہ کورٹ کے احاطے میں نیشنل لوک عدالت کا اہتمام کیاجارہاہے۔جس میں لوگ آپسی مفاہمت ،بات چیت اور صلہ رحمی کے ذریعے سے لوک عدالت میں اپنے معاملات حل کروالیں۔انہوں نے یہاں پریس کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کہاکہ نیشنل لیگل اتھاریٹی کے احکامات کے مطابق ضلع کے تمام عدالتوں میں18 دسمبر سنیچرکو راشٹریہ لوک عدالت کا انعقاد کیاگیاہے،سیول،ازدواجی معاملات ،چیک بائونس،موٹر وہیکل معاملات جیسے کیسس کو آپسی صلاح مشورے کے ساتھ حل کیاجاسکتاہے،اسی طرح سے ہندو میراج ایکٹ اور مسلم پرسنل لاء کے تحت بھی طلاق،خلع اور علیحدگی کے معاملات کوحل کرلیاجاسکتاہے۔اس خصوصی لوک عدالت کیلئے18 بینچ کی نشاندہی کی گئی ہے، جس میں وکیل اور جج شرکت کرینگے۔اس دفعہ خاص بات یہ ہے کہ علیحدگی کے معاملات کوآپسی مفاہمت سے حل کئے جائینگے۔پچھلے دو مہینوں سے عدالت میں455 معاملات میاں بیوی کے جھگڑے درج ہوئے ہیں،جن میں سے 200 کے قریب معاملات کو صلاح مشورے کے ساتھ حل کرلیاگیاہے،اسی طرح سے بینک کے قرضہ جات،بجلی کے بل کے مسائل کو لیکر جو مقدمے عدالت میں موجودہیں،انہیں بھی حل کرنے کیلئے لوک عدالت میں ترجیح دی جارہی ہے۔یکم ڈسمبر تک ضلع میں54477 معاملات زیر سنوائی ہیں،ان میں سے 13318 معاملات کو لوک عدالت میں سنوائی اور حل نکالنے کیلئے پیش کیاجارہاہے۔اسی طرح سے مزید لوک عدالت کا اہتمام کیاجائیگا۔کوویڈ کے دوران بھی 30 ستمبرکو میگا لوک عدالت کا اہتمام کیاگیاتھا،جس میں 12644 معاملات کی نشاندہی کی گئی تھی،ان میں سے10776 معاملات حل ہوچکے ہیں ۔اسی طرح سے متاثرین کو معاوضہ دلوانے کیلئے لوک عدالت کارآمدرہی ہے،آسیڈ کاحملہ،قتل کی واردات،زنا بالجبر کے معاملات میں مجرمین پر جرمانہ عائدکیا گیا تھا ،سال2014 سے اب تک ایسے301 معاملات درج ہوئے ہیں،جن میں سے299 معاملات کیلئے 45312500 روپئے بطور جرمانہ متاثرین کو ادا کیا گیا ہے ۔18 دسمبر کو ہونے والے اس لوک عدالت میں جج،پینل وکیل اور بار اسوسیشن کا مکمل تعائون ہے،اس لئے جو لوگ عدالت میںمقدمات کی سنوائی کیلئے گھوم رہے ہیں وہ اس سنہرے موقع کا فائدہ اٹھائیں۔