لڑکیوں کی شادی کی عمر 21 سال کرنے کا بل لوک سبھامیں پیش; اپوزیشن نے بتایاجلدبازی میں لیاگیافیصلہ، پارلیمانی کمیٹی کو بھیجا گیا

سلائیڈر نیشنل نیوز
دہلی:۔ بچوں کی شادی پر پابندی (امتناع) ترمیمی بل 2021 منگل کو لوک سبھا میں پیش کیا گیا، جس میں لڑکیوں کی شادی کی کم از کم قانونی عمر 18 سال سے بڑھا کر 21 سال کرنے کی تجویز ہے۔ اپوزیشن ارکان کے زبردست احتجاج کے درمیان بہبودبرائے خواتین واطفال کی وزیر اسمرتی ایرانی نے ایوان زیریں میں چائلڈ میرج ممانعت ترمیمی بل 2021 پیش کیا۔ اس کی کانگریس ترنمول کانگریس، این سی پی، ڈی ایم کے، اے آئی ایم آئی ایم، شیو سینا، آر ایس پی، بی جے ڈی جیسی جماعتوں نے مخالفت کی۔ اپوزیشن جماعتوں نے مطالبہ کیا کہ بل کو جامع غوروخوض کے لیے پارلیمنٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی کو بھیجا جائے۔اسمرتی ایرانی نے اس بل کو لڑکیوں اور خواتین کو بااختیار بنانے کی سمت میں ایک اہم قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ جو لوگ ایوان میں اپنی نشست کے سامنے شور مچا رہے ہیں، وہ ایک طرح سے خواتین کو ان کے حقوق سے محروم کرنے کی کوشش ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر اپوزیشن جماعتوں کے ارکان کچھ دیر انتظار کرتے اور ان کی بات سنتے تو انہیں معلوم ہوتا کہ وہ خود حکومت کی جانب سے اس بل کو اسٹینڈنگ کمیٹی کو بھیجنے کی تجویز دے رہی ہیں تاکہ اس پر بحث کی جاسکے۔ایرانی نے یہ بھی کہا کہ تمام مذاہب، ذاتوں اور برادریوں کی خواتین کو شادی کے معاملے میں برابری کا حق ملنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ لڑکیوں اور لڑکوں کی شادی کی عمر 21 سال برابر ہونی چاہیے۔بل کو پیش کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے کانگریس لیڈر ادھیر رنجن چودھری نے کہا کہ حکومت اس بل کو ضمنی ایجنڈے میں لائی ہے اور اس طرح بہت سے بل جلد بازی میں لائے جا رہے ہیں۔