میسور:آئندہ انتخابات میں کانگریس اگر اقتدار میں آتی ہے تو سوفیصد تبدیلی مذہب قانون کو واپس لے لیا جائیگا۔ اس بات کی یقین دہانی کے پی سی سی ترجمان ایم لکشمن نے کیا ہے۔ انہوں نے شہر کے کانگریس بھون میںنامہ نگاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تبدیل مذہب قانون ایک بدامنی پیدا کرنے والا قانون ہے۔ اس قانون کو کانگریس حکومت کبھی قبول نہیں کریگی۔ اگلے الیکشن میں اگر کانگریس اقتدار پر آتی ہے تو سو فیصدی اس قانون کو واپس لینے کا اقدام اٹھایا جائیگا، ایم لکشمن نے تبدیل مذہب ایکٹ کی کاپی کو پھاڑ کر اپنے غصے کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ تبدیل مذہب قانون اترپردیش، گجرات ، مدھیہ پردیش میں نافذ ہے۔ گجرات میں اس قانون پر کورٹ نے اسٹے لگادیا ہے۔ ملک کے آئین میں یہ اختیار دیا گیا ہے کہ ملک کا کوئی بھی شہری اپنے مرضی اوراپنی پسند کے مطابق کوئی بھی مذہب اختیار کرسکتا ہے۔ اس کیلئے ایک اور قانون بنانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ آئین کی شق 25 کے مطابق گجرات عدالت نے اس پر روک لگادی ہے۔ اس ایکٹ کو کانگریس کبھی قبول نہیں کریگی۔ واضح ہوکہ ہمارا ملک کسی بھی ایک مذہب، ایک دھرم یا ایک ذات تک محدود نہیں ہے۔ بی جے پی بے وجہ عوام کوحراساں کرنے اور اقلیتی، عیسائیوں کو نشانہ بناتے ہوئے اس ایکٹ کو نافذ کرنے جارہی ہے۔ اس کا مقصد صرف اورصرف بدامنی پھیلانا اوراپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ اترپردیش اورگجرات میں نافذ کردہ قانون اور ریاست میں جاری ہونے جارہے ایکٹ میں کافی فرق ہے۔تبدیلی مذہب کی خواہش رکھنے والوں کو اپنے رشتہ داروں سے اجازت لینی ہوگی اوران سے کوئی بھی سوال کرسکتا ہے ایسا نکات شامل کیا گیا ہے جو کہ خطرناک ہے۔ گولی ہٹی میں تقریباً 15 ہزار لوگوں نے تبدیلی مذہب کیا ہے ایسا ایوان میں بتایا گیا ہے۔چتردرگہ میں رضاکارانہ طور پر 45 خاندان قانونی دائرے میں آکر تبدیل مذہب کرچکے ہیں ۔ہما را سوال ہے کہ ان سب کیلئے موقع کس نے دیا ہے؟۔
