تبدیلی مذہب مخالف بل کوقانون میں تبدیل ہونے کیلئے اگلے سال تک کرنا پڑیگا انتظار

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
بنگلورو:۔کرناٹک قانون ساز اسمبلی میں تبدیلی کی روک تھام کا بل پاس ہو گیا ہے، لیکن اسے قانون بننے کیلئےکچھ وقت انتظار کرنا پڑے گا۔ اسمبلی کے مشترکہ اجلاس میں اب یہ بل اگلے سال پیش کیا جائے گا کیونکہ فی الحال بی جے پی کے پاس کونسل میں اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے انسداد تبدیل مذہب کو کونسل میں پیش نہیں کیاگیاہے، لیکن جنوری 2022میں بی جے پی کواکثریت ملتے ہی اس بل کو کونسل میں منظور کرلیاجائیگا۔ جس دن کرناٹک قانون ساز اسمبلی نے پاس کیا، اسی دن دو واقعات نے سب کو سوچنے پر مجبور کردیا۔ چکبالا پور میں ایک چرچ پر حملہ کیا گیا اور دائیں بازو کی تنظیم کے کارکنوں نے منڈیا کے ایک اسکول میں ہنگامہ برپا کر دیا اور کہا کہ وہاں صرف عیسائی برادری کے تہوار منائے جاتے ہیں ہندوؤں کے تہوار نہیں۔بنگلور کے آرچ بشپ پہلے ہی اپنا خدشہ ظاہر کر چکے ہیں کہ اس طرح کا قانون اقلیتی برادری کیلئے نقصاندہ ہے اور اس سے آن والے ایام میں مزید مشکلات درپیش ہونگے۔ عیسائیوں کے ساتھ ساتھ کئی رضاکار تنظیمیں بھی اس بل کی مخالفت کر رہی ہیں۔ فی الحال بی جے پی کے پاس قانون ساز کونسل میں اکثریت نہیں ہے، ایسے میں حکومت اب یہ بل جنوری 2022میں ہونے والے قانون ساز اسمبلی کے مشترکہ اجلاس میں لائے گی کیونکہ پارٹی کو جیسے ہی اکثریت ملےگی تو یہ بی جے پی کے اراکین اسمبلی کی تعدادمیں اضافہ ہوجائیگا،اس کیلئے اب بی جے پی نئے اراکین کی حلف برداری کاانتظار کررہی ہے۔ریاستی وزیر برائے پنچایت راج کے ایس ایشورپا کاکہناہےکہ ‘ہم اپنا مذہب بچائیں گے،ہم کسی ہندو کو مذہب تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، نہ ہم دوسروں کے معاملات میں مداخلت کریں گے اور نہ ہی اسے برداشت کریں گے۔ جو بھی ایسا کرنے کی کوشش کرے گا ہم اسے نہیں چھوڑیں گے۔ تبدیلی مذہب کے قانون کے بعد اب بومئی حکومت لوجہاد پر بھی قانون بنانا چاہتی ہے۔ غور طلب ہے کہ وزیر اعلیٰ بسواراج بومئی کا پس منظر آر ایس ایس سے نہیں ہیں،باوجوداس کے وہ آر ایس ایس کے اشاروں پر کام کررہے ہیں اور موجودہ حالات میں وہ سنگھ سے حمایت حاصل کرنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کرنا چاہتے اور یہ ساری مشق اسی کوشش کا حصہ ہے۔