شیموگہ:۔جہاں مسلم تنظیمیں ،علماء اور شریعت مسلمانوں کو شادی سادی کرنے کاحکم دیتے آئے ہیں اور شادی بیا ہ میں اصراف اخراجات سے گریز کرنے کیلئے کہاجاتاہے،وہیں پچھلے کچھ دنوں سے شادی بیاہ کی تقاریبات میں جہالت لاعلمی،شرک وبدعت اور حرام کام عرو ج پر پہنچ رہے ہیں۔لوگ شادی بیاہ میں سوائے نکاح و لیمہ کی سُنت کے کم وبیش تمام خرافات کو انجام دیتے ہوئے نہ صرف دنیائوی پریشانیوں کاسامنا کررہے ہیں بلکہ کھلے عام غیر شرعی حرکتوں کو بھی بڑھاوا دے رہے ہی۔اس دفعہ سوشیل میڈیامیں ایک تصویر زیر بحث ہے،جس میں ایک دولہا باقاعدہ پھولوں کاہارنہیں اور نہ ہی کافروں کی طرح نوٹوں کاہارپہناہواہے بلکہ جہالوں کی طرح اس نےکاجو ،بادام،پستے اورچلگوزو ں سے بنے ہوئے ہار کا پہن کر چلتے پھرتے حریرے کے سامان کی دُکان بنا ہواہے۔اس ہارمیں اگر کمی ہے تو صرف خشخش اوربگھارکے گھی کی کمی ہے،ورنہ مکمل حریرہ نکاح میں ہی بن جاتا۔سوال یہ ہے کہ آخر یہ کونسے مسلمان ہیں جو ایک نکاح کی سُنت کو اداکرنے کیلئے سینکڑوں فرائض اور سُنتوں کو پامال کررہے ہیں اوریہ کونسےدین پر چل رہے ہیں جو دینی تعلیمات سے منحرف ہورہے ہیں۔یقیناً نکاح کے موقع پر دولہے کا الگ دکھنا اور سجنا ضرور ی نہیں ہے لیکن سجاوٹ کے نام پر کچھ دولہے جوکر بن رہے ہیں تو کچھ دولہے مسلمان رہ کر بھی راجپوت تو کوئی بنگالی،تو کوئی لنگایت تو کوئی لمبانی بن رہاہے۔اس سے اسلامی تہذیب وروایت کا کھلے عام خون ہورہاہے۔اس وقت اگر مسلمان خرافات سے نہیں بچتے ہیں تو آنے والے دنوں میں ان کیلئے پریشانیاں کم نہیں ہونگی۔
