شیموگہ:۔جب تک مرکزی حکومت جنگلات کےروایتی کاشتکاری قانون میںجب تک ترمیم نہیں لاتی ہے تب تک ڈویژنل سطح پر نشست کو ملتوی کرنے کا مطالبہ رایترا ہوراٹا سمیتی کی جانب سے آج ڈپٹی کمشنردفتر کے احاطے میں بڑے پیمانے پر احتجاج کرتے ہوئے کیا گیا ہے۔ اس موقع پر وزیر نگران کار کے ایس ایشورپا اور ڈپٹی کمشنردونوں نےمظاہرین کی درخواست قبول کی ہے ۔ مظاہرین نے الزام لگایا کہ مرکزی حکومت کے جنگلاتی حقوق ایکٹ کے تحت روایتی جنگلاتی باشندوں کیلئے زمینات کی منظوری میں 75 سال کا تجربہ درکار رکھا گیا ہے۔ اس سے زمینات کی منظوری کروانا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ لہٰذا اس ضمن میںکسانوں کی جانب سےمرکز سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ 25 سال کے تجربے کا ریکارڈرکھتے ہوئے جنگلاتی کاشتکاروں کو زمینات کی منظوری کی جائے اورموجودہ قانون میں ترمیم لانے کی سفارش کی گئی۔اس کے علاوہ رکن پارلیمان بی وائی راگھویندرانے بھی لوک سبھا میں اسی قانون میں ترمیم لانے کیلئے زور دیا ہے۔ مظاہرین نے الزام لگایا کہ حال ہی میں ڈویژنل سطح پر ڈپٹی کمشنر کی نشست مدعو کرتے ہوئے ساگر اورشیموگہ ڈویژن افسران نے سن 1930 کے تحت ماضی کے تجربات کی بنیاد پر دستاویزات جمع کرنے کیلئے 15 دنوں کا وقت دیا ہے اور دستاویزات جمع نہ کرنے والوں کی عرضیوں کو مسترد کرنے کا نوٹس جاری کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے جنگلاتی زمینات پر کاشتکاری کرنے والے کسانوں کو قدرتی انصاف اور اصولوں پر عمل درآمدی کے ذریعہ انکی مدد کرتے ہوئے دستاویزات حاصل کرنے پر افسران کو حکم دیا ہے۔ لیکن کوئی بھی عہدیدار ان اصولوں پر عمل نہیںکررہا ہےکہتے ہوئے شکایت کی ہے۔مظاہرین نے اپنی مشکلات بتاتے ہوئے کہا کہ اگرایک بار ڈویژنل سطح کے افسران درخواست کو مسترد کر دیتے ہیں توڈپٹی کمشنر سے اپیل کرنی پڑتی ہے،ہائی کورٹ جانا پڑتاہے،اسطرح ان باشندوں کو کنگال ہونا پڑتا ہے۔اس لیےجب تک قانون میں ترمیم نہیں کی جاتی اس وقت تک اجلاس نہ کرنے کی اپیل کی گئی۔درخواست قبول کرتے ہوئے وزیر نگران کار ایشورپا نےبتایا کہ مرکزی حکومت سے قانون میں ترمیم لانے کا مطالبہ پیش کیا گیاہے اور رکن پارلیمان راگھویندرا کی سفارش پر کسانوں کے خلاف کسی بھی طرح کی کارروائی کو روکنے کا حکم دیا گیا ہے۔ احتجاج میں کمیٹی کنوینر ٹی تیناشرینواس، پرشورام شیٹی ہلی، ویریشپا، مہادیوپا، ناگراج سمیت کئی کسانوں نے احتجاج میں حصہ لیا۔
