شوہر بیوی کے جھگڑے میں بچے کو مشکلات کا سامنا نہیں کرنا چاہیے:سپریم کورٹ

سلائیڈر نیشنل نیوز

دہلی:۔ ازدواجی تعلقات میں تناؤکی وجہ سے بچوں پر پڑنے والے برے اثرات پر تشویش کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ والدین کے درمیان جھگڑے کی وجہ سے بچے کو نقصان نہیں اٹھانا چاہیے۔ اس کے ساتھ سپریم کورٹ نے ایک فوجی افسر کو اپنے 13 سالہ بیٹے کی بالغ ہونے تک دیکھ بھال کی ہدایت کی۔ فوجی افسر کی اپیل پرطلاق کافیصلہ کرتے ہوئے جسٹس ایم آر شاہ اور جسٹس اے ایس بوپنا کی بنچ نے بھی افسر کو ہدایت دی کہ وہ اپنی بیوی کو 50,000 روپے بطور بھتہ ادا کریں۔ عدالت نے کہاہے کہ اس حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ میاں بیوی دونوں مئی 2011 سے ایک ساتھ نہیں رہ رہے ہیں، اس لیے یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان کے درمیان شادی ٹوٹ گئی ہے جسے درست نہیں کیا جا سکتا۔ بنچ نے کہاہے کہ یہ بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ شوہر نے پہلے ہی دوبارہ شادی کر لی ہے ۔تاہم شوہر کوبیٹے کی ذمہ داری سے اس وقت تک بری نہیں کیا جا سکتا جب تک کہ وہ سیٹ نہ ہوجائے۔ بنچ نے کہاہے کہ میاں بیوی کا جھگڑا کچھ بھی ہو، بچے کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا چاہیے۔بنچ نے کہاہے کہ بیٹے کے بالغ ہونے تک اس کی ذمہ داری اس کے والدکی ہے۔