دہلی:۔دہلی کی سرحدوں پر بدھ کے روز احتجاج کرنے والے کسانوں نے ان الزامات کو مسترد کردیا کہ وہ میڈیکل آکسیجن گاڑیوں کوشہر میں داخل نہیں ہونے دے رہے ہیں اور کوویڈ 19 کے مریضوں کی جان کو خطرہ میں ڈال رہے ہیں۔بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ پرویش ورما نے منگل کی شب الزام لگایا کہ کسانوں کی جانب سے سڑک کی ناکہ بندی کی وجہ سے دہلی میں میڈیکل آکسیجن کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے۔ متعدد کسان تنظیموں کی نمائندگی کرنے والے متحدہ کسان مورچہ نے بدھ کے روز کہاہے کہ اس احتجاج کے پہلے دن سے ہی انہوں نے ہنگامی خدمات کے لیے ایک راستہ کھلا چھوڑ دیا ہے۔مورچہ نے کہاہے کہ ایک بھی ایمبولینس یا ضروری سامان کی سروس روکی نہیں کی گئی ہے۔ یہ کسان نہیں ہے ، بلکہ حکومت ہے جس نے مضبوط اور کثیر پرتوں والے بیریکیڈ لگائے ہیں۔ کسان انسانی حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں اور وہ ہر انسان کے حقوق کی حمایت کرتے ہیں۔انھوں نے کہاہے کہ کسانوں کے خلاف یہ پروپیگنڈا کیا جارہا ہے کہ انہوں نے سڑکیں بند کردی ہیں اوروہ آکسیجن کودہلی نہیں آنے دے رہے ہیں۔ یہ بالکل غلط خبر ہے۔ ہاں ہم مظاہرہ کررہے ہیں لیکن ہم کوویڈ 19 کے مریضوں یا عام شہریوں کے خلاف مظاہرہ نہیں کررہے ہیں۔ ہم زراعت سے متعلق حکومت کی امتیازی پالیسی کے خلاف ہیں۔ گذشتہ سال نومبر سے ہی پنجاب ، ہریانہ اور کئی دیگر ریاستوں کے ہزاروں کسان دہلی کی سرحدوں پر ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں ۔
