کورونا وائرس کی تیسری لہر کی مبینہ واضح’ دستک‘: روزانہ کیسز میں 40 فیصد کا ’خطرناک‘ اور تشویشناک اضافہ 

سلائیڈر نیشنل نیوز
دہلی:۔کورونا وائرس کے تخلیق شدہ نئی قسم اومیکرون نے دنیا بھر میں متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ کردیا۔ اب نیا سال شروع ہونے سے پہلے، یہ ویرینٹ ہندوستان میں بھی تیسری لہر کا باعث بنتانظر آ رہا ہے۔ پچھلے تین دنوں کے اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو یہ امر منکشف ہوتا ہے کہ ہندوستان میں کرونا کی تیسری لہر نے دستک دے ڈالی ہے۔ درحقیقت گزشتہ تین دنوں سے ہندوستان میں کورونا کے کیسز میں روزانہ 40 فیصد کی شرح سے خطرناک اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ چونکا دینے والا اعداد و شمار اس لیے اہم ہے کہ ہندوستان میں انفیکشن کی یہ رفتار دوسری لہر کے دوران بھی نہیں دیکھی گئی تھی، جب کورونا کی ایک قسم ڈیلٹا نے ملک میں تباہی مچا کر لاشیں بچھادی تھیں۔ہندوستان میں کرونا کے یومیہ کیسز کی بات کریں تو جہاں 27 دسمبر کو 6358 کیسز رپورٹ ہوئے تھے، وہیں 28 دسمبر کو یہ تعداد بڑھ کر 9195 ہوگئی تھی، یعنی تقریباً 45 فیصد سے زیادہ۔ اس کے بعد 29 دسمبر کو بھارت میں کورونا کے 13 ہزار 154 کیسز درج ہوئے جو کہ ایک دن پہلے کے مقابلے میں 43 فیصد زیادہ ہے۔ اب اگر 30 دسمبر کے کورونا کیسز پر نظر ڈالیں تو ایک دن میں 16 ہزار 764 کیسز سامنے آئے جو کہ گزشتہ روز کے مقابلے 43 فیصد زیادہ ہے۔یعنی بھارت میں مسلسل تین دنوں سے کورونا کے کیسز میں 40 فیصد کا اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اگر اسی شرح سے کورونا کے کیسز بڑھتے رہے تو سات دن بعد ملک میں کورونا کے ایک لاکھ 75 ہزار نئے کیسز سامنے آجائیں گے۔ اس کے علاوہ ہندوستان میں روزانہ سامنے آنے والے نئے کیسز کی تعداد 50 ہزار سے تجاوز کر جائے گی۔بھارت میں کورونا کی تیسری لہر کی آواز واضح طور پر دکھائی دے رہی ہے۔ نام نہاد ڈاکٹروں نے اس تخلیق شدہ وائرس کو اومیکرون کانام دیا ہے ۔ اعدادوشمار کے حوالے سے ایک بار پھرجب کہ 27 دسمبر تک ملک بھر میں اومیکرون کے 643 کیسز پائے گئے، 28 دسمبر کو یہ تعداد 20 فیصد کی شرح سے بڑھ کر 781 ہو گئی ہے۔ 29 دسمبر کو وزارت صحت نے کہا تھا کہ ہندوستان میں 962 اومیکرون متأ ثر پائے گئے ہیں۔ یعنی 24 گھنٹوں کے اندر ایک بار پھر 20 فیصد اضافہ۔ اب 30 دسمبر تک ہندوستان میں اومیکرون سے متأثر ہونے والوں کی کل تعداد 1270 تک پہنچ گئی ہے۔ یعنی گزشتہ روز کے مقابلے میں تقریباً 30 فیصد زیادہ ہے۔ ظاہر ہے کہ ملک میں کورونا کیسز میں اضافے کی وجہ اومیکرون ہی ہے ۔