دہلی:۔ ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کے حکم کے بعد بینکوں نے نئے سال کے پہلے دن 1 جنوری 2022 سے آٹومیٹڈ ٹیلر مشین (اے ٹی ایم ) کیش ٹرانزیکشنز اور دیگر لین دین پر چارج بڑھا دیا ہے۔ فیس میں یہ اضافہ لین دین کی مقررہ تعداد سے زیادہ لین دین کرنے پر کیا گیا ہے۔ اس میں نقدی اور دیگر لین دین بھی شامل ہے۔آر بی آئی کی 10 جون 2021 کی نوٹیفکیشن کے مطابق یکم جنوری 2022 سے، بینک اب 20 روپئے کے بجائے 21 روپئے اے ٹی ایم ٹرانزیکشن چارج کے طور پر وصول کر سکیں گے۔ تاہم صارفین اپنے بینک اے ٹی ایم سے ہر ماہ پانچ بارمفت ٹرانزیکشنز (بشمول مالیاتی اور غیر مالیاتی لین دین) کر سکتے ہیں۔ یہ فیس صرف اس سے زیادہ کے لین دین پر عائد کی جائے گی۔ صارفین دوسرے بینکوں کے اے ٹی ایم سے مفت لین دین (بشمول مالیاتی اور غیر مالیاتی لین دین) بھی کر سکتے ہیں، لیکن اس کی حد بھی مقرر کر دی گئی ہے۔ میٹرو شہروں میں صارفین دوسرے بینک کے اے ٹی ایم سے تین ٹرانزیکشن کر سکتے ہیں جبکہ غیر میٹرو سٹی میں پانچ ٹرانزیکشن ہوسکتے ہیں۔اس سے قبل اے ٹی ایم ٹرانزیکشنز کے لیے انٹرچینج فیس میں آخری تبدیلی اگست 2012 میں کی گئی تھی، جب کہ صارفین کی جانب سے قابل ادائیگی چارجز پر آخری بار اگست 2014 میں نظر ثانی کی گئی تھی۔ آر بی آئی نے 1 جنوری 2022 سے ان تبدیلیوں کو مطلع کیا ہے، جس میں اے ٹی ایم کی تنصیب کی بڑھتی ہوئی لاگت اور بینکوں یا وائٹ لیبل اے ٹی ایم آپریٹرز کے ذریعے کیے جانے والے اے ٹی ایم کی دیکھ بھال کے اخراجات کا حوالہ دیا گیا ہے۔
