شیموگہ: مہمان لکچررس کا احتجاج دن بہ دن زور پکڑتا جارہا ہے لیکن انکے مسائل کا حل دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ مستقل ملازمت ، مناسب تنخواہ اوردیگر مطالبات کو پورا کرنے کی مانگ کو لیکرگیسٹ لکچررس پچھلے 22 دنوں سے مسلسل احتجاج کررہے ہیں اور آج بھی امبیڈکر بھون سے ڈپٹی کمشنر دفتر تک پیدل مارچ کرتے ہوئےمظاہرین نے ڈپٹی کمشنردفتر پہنچ کر احتجاج کیا ہے۔ اس دوران مظاہرین نے گیسٹ لکچررس کے مطالبات کو لیکر حکومت کی عدم توجہہ اور نظراندازی کے خلاف سخت برہمی کا اظہار کیا اور وزیر تعلیم بی ناگیش پر بھی شدید برہم دکھائی دئےہیں۔ حکومت مہمان لکچررس کے منصفانہ مطالبوں کو پورا کرنے میں ٹال مٹول کررہی ہے۔ اس موقع پرلکچرر وجئے لکشمی نے نامہ نگاروںسے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایک فٹ پات فروش جومنڈکی بیچ کر روزانہ کم ازکم 5 ہزار روپئے اجرت کما لیتا ہے ، لیکن ہمیں اس بات کو بڑی شرمندگی کے ساتھ بتانا پڑرہا ہے کہ ایک مہمان لکچررس کی تنخواہ ماہانہ محض11 ہزارروپئے ہےاوروہ بھی 6 مہینے میں ایک دفعہ دی جارہی ہے۔ ہمیں اپنی تنخواہ بتانے میں بھی شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔ حکومت کو مہمان لکچررس کے مفادات کا خیال رکھنا چاہئے۔لکچررس کے ساتھ حکومت کی بے رخی صحیح نہیں ہے۔
