نرنترا جوتی بدعنوانی معاملے کوسی بی آئی سے تحقیقات کروائی جائے:کانگریس 

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
شیموگہ:۔نرنترا جوتی منصوبے میں ہوئے گھوٹالے کی حقیقت اور بدعنوانی میں ملوث خطاکاروں کو سامنے لانے کیلئے سی بی آئی سے اس معاملے کی مکمل تحقیقات کروانے کا مطالبہ سابق رکن اسمبلی وکے پی سی سی ترجمان کے بی پرسنناکمار نے کیا ہے۔ انہوں نے آج پریس کانفرنس میں بات کرتے ہوئے کہا کہ نرنترا جوتی منصوبے کے نفاذ کیلئے حکومت سے220کروڑ کی مالیت مختص کی گئی ہے۔ اس میں 140 کرو ڑ کی امداد جاری کردی گئی ہے۔ 8 ماہ قبل ضلعی نگران کار وزیر نے نرنترا جوتی منصوبے کے تیئں ایک نشست میں اس بات کا انکشاف کیا تھاکہ تکمیل شدہ کاموں اور منظور شدہ امداد میں 5کروڑ روپیوں کا فرق پیدا ہورہا ہے اور اس کو درست کرنے کی تاکید کی گئی تھی۔ اسکے بعدحالیہ دنوں ضلعی وزراء کی نشست میں 12 کروڑ سے زائد رقم کی ہیرا پھیری ہونے کا انکشاف ہوا ہے اسکے بعد بھی ضلعی وزراء انہیں درست کرنے کا ہی مشورہ دے رہے ہیں۔ وزیر توانائی کی صدارت میںہونے والی اس نشست میں بتایا گیا ہے کہ نرنترا جوتی منصوبے کے نفاذ میں 89 ہزار بجلی کے کھمبوں کوضابطے کے مطابق نصب نہیں کیا گیا ہے۔انہوں نے سوال پوچھا ہے کہ کیا بدعنوانی میں ملوث اے ای ای اور جے ای کو معطل کرنے کیلئے خود وزراء کو یہاں آنا پڑیگا۔ انہوں نے کہا کہ 8 ماہ قبل 5 کروڑ کی بدعنوانی، اب 21.12کروڑ کا گول مال،40 سے 50 کروڑ تک بدعنوانی ہونے کا امکان ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک اعلیٰ پیمانے پر کیا جانے والاگھوٹالہ ہے اسکی منظم تحقیقات ہونی چاہئےاوراس کی تحقیقات سی بی آئی سے کروانے کی مانگ کی گئی ہے۔