شیموگہ:۔ کوویڈ کے معاملات جن اضلاع میں کم ہیں یہاں کےلوگوں کے کاروبار،اسکول اور کالجوں کی تعلیم کو کسی طرح کی روکاوٹ پیش نہ آئے ایسے اقدامات اٹھائے جانے چاہئے۔ یہ مشورہ وزیر اعلیٰ سے وزیر نگران کارکے ایس ایشورپا نے آج کابینہ میں دیا ہے۔وزیر موصوف نےآج اس بات کی وضاحت نامہ نگاروں سے کرتے ہوئے کہا کہ بنگلور میں سمیت ریاست کے کچھ حصوںکے سرحدی علاقوں میں کورونا کے معاملات میں اضافہ ہو رہا ہے۔اس پرقابو پانے کیلئےسخت کارروائی کرنا لازم ہے لیکن موجودہ حالات میں شیموگہ، داونگیرے، چکمگلور اور دیگر جگہوں پر کوویڈ کے معاملے کم ہیںیہاں لاک ڈاؤن سمیت سخت کارروائی کی ضرورت نہیں ہے۔اس سلسلے میںوزیر اعلیٰ سے گذارش کی گئی کہ جن اضلاع میں کوویڈ کے معاملات کم ہیں یہاں پابندیوں میں چھوٹ دی جائے۔مزیدگزشتہ 2 سال سے لوگ کورونا کی وجہ سے بہت نقصان اٹھا رہے ہیں۔ کاروباراور لین دین کے بغیر بہت سے لوگ مالی مشکلات اٹھارہے ہیں۔ اس بات کو سمجھتے ہوئے ہمیں کوروناپر قابو پانے کے مناسب طریقے سوچنے کی ضرورت ہےاورایک ایسا متبادل راستہ اختیار کرنا چاہئے جس سے عوام کا کاروبار بھی متاثر نہ ہو اور کورونا سے بھی حفاظت کو یقینی بنایا جاسکے۔ وزیر موصوف نے اس دوران عوام الناس سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ کورونا کے قوانین کی سختی سے تعمیل کرتے ہوئےاپنی حفاظت کریں اور حکومت کا تعاون بھی کریں۔ایشورپا نے سابق وزیر اعلیٰ سدرامیا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کورونا بڑھ رہا ہے اس بات کو سمجھتے ہوئے بھی بنگلور میں پیدل ریالی نکالنا ٹھیک نہیں ہے۔ حکومت کے سخت اقدامات کورونا کے پیش نظر ہے بجائے اس کا کوئی سیاسی مقصد نہیںہے۔ اپوزیشن لیڈر سدرامیا اور کے پی سی سی صدر ڈی کے شیوکمارکی یہ ضد کہ وہ پیدل مارچ نکالیں گے ،یہ ٹھیک نہیں ہے۔ ہزاروں لوگوں کو پیدل سفر کرنا پڑسکتا ہے۔ بنگلورو میں کورونا کےکیس پہلے ہی زیادہ ہوچکےہیں۔ حفاظتی نقطہ نظر سےہم نے ان اصولوں کو لاگو کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کانگریس قائدین کو یہ سمجھنا چاہئے۔
