لندن:۔عالمی سطح پر کووڈ-19 میں مبتلا ہونے والوں کی تعداد 30 کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے۔ عالمگیروبا کے پھیلاؤ میں آنے والی تیزی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پہلے 10 کروڑ کے ہندسے تک پہنچنے میں ایک سال سے زیادہ کا عرصہ لگاجب کہ تیسرے 10 کروڑ کی حد محض پانچوں مہینوں کے اندر ہی عبور کر لی گئی۔کرونا وائرس کے تیز تر پھیلاؤ کے باعث لندن میں طبی عملے اور مریضوں کو اومیکرون کی وجہ سے سخت نقصان پہنچا ہے، جس کے بعد اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے حکومت نے 40 ڈاکٹروں سمیت فوج کے 200 ارکان کو شہر کے اسپتالوں میں تعینات کر دیا ہے۔کرونا کے پھیلاؤ کی رفتار نے ملک کی نیشنل ہیلتھ سروس پر نکتہ چینی میں اضافہ کر دیا ہے اور ناقدین کا کہنا ہے کہ اومیکرون میں اضافہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ملک میں صحت کا نظام قومی ضرورتوں اور تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے کووڈ-19 سے متعلق سینٹر کے اعداد و شمار کے مطابق جنوری کے پہلے ہفتے میں امریکہ میں رجسٹر ہونے والے روزانہ کیسز کی تعداد 10 لاکھ سے بڑھ گئی ہے جو ایک نیا عالمی ریکارڈ ہے، جب کہ پچھلے سات 5 سے 11 جنوری کے ہفتے کے دوران یہ اوسط دو لاکھ 58 ہزار کیسز تھی۔بیماریوں کی روک تھام اور بچاؤ کے امریکی ادارے سی ڈی سی نے بتایا ہے کہ نئے سال کے آغاز کے بعد سے رجسٹر ہونے والے 95 فی صد سے زیادہکورونا کیسز اومیکرون کے ہیں۔ جاری ہونے والے جانز ہاپکنز کے ڈیٹا کے مطابق گزشتہ 28 دنوں میں عالمگیر وبا سے امریکہ میں 36ہزار 400 سے زیادہ اموات ہوئیں جب کہ اسی عرصے کے دوران 69 لاکھ سے زیادہ نئے مریضوں کا انداج ہوا۔ایک ایسے موقع پر جب عالمگیر وبا کی نیا ویرینٹ انتہائی تیز رفتاری سے اپنا دائرہ وسیع کر رہا ہے، صدر بائیڈن کو یقین ہے کہ وہ اس پر قابو پانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ انہوں نے ایک بار پھر کہا ہے کہ مجھے نہیں لگتا کہکورونا وائرس یہاں رہنے کے لیے آیا ہے۔جب کہ اس سے قبل صحت کے سابقہ مشیروں میں چھ امریکیوں پر یہ زور دے چکے ہیں کہ وہکورونا وائرس کے ساتھ زندگی بسر کرنا سیکھیں۔ اور صدر کی انتظامیہ کو اس وبا کے مقابلے کے لیے مختلف طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔صحت کے عالمی ادارے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے کہا ہے کہ حال ہی میں فرانس میںکورونا وائرس کی ایک نئی جینیاتی قسم کا پتہ چلا ہے جس پر نظر رکھی جا رہی ہے۔ فرانس کے دوسرے سب سے بڑے شہر مارسلے میں قائم آئی ایچ یو میڈیٹرانے انفکشن فاؤنڈیشن کے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے دسمبر کے دوران مارسلے کے قریب رہنے والے 12 مریضوں میںکورونا وائرس کی ایک نئی قسم بی ون 640 ٹو دریافت کی، جس میں وسطی افریقی ملک کیمرون کا سفر کرنے والا پہلا ایسا مریض بھی شامل تھا جس کا ٹیسٹ مثبت آیا تھا۔
