از:۔مدثراحمد ۔شیموگہ،کرناٹک۔9986437327
جب بھی مسلمانوں پر کسی طرح کی آفتیں آتی ہیں اورمسلمان پریشان حال ہوتے ہیں، قدرتی آفات ، فسادات، بحران یا لاک ڈائون جیسے مسائل پیش آتے ہیں تو مسلمانوں کی سب سے بڑی پریشانی یہ ہوتی ہے کہ انہیں فوری راحت کیلئے وسائل میسر نہیں ہوتے، یہ تو بڑے بڑے مسائل ہیں اس پر عموماً وقت کے مدنظر امدادی کام کیا جاتا ہے اورمالدار طبقہ اپنی استطاعت کے مطابق امداد کیلئے آگے بڑھتاہے مگر ان مسائل کے علاوہ اوربھی کچھ مسائل ہیں جس میں عام طور پر صحت کے مسائل ہیں، تعلیم کے مسائل ہیں، یا پھر ماہانہ گذاران کے مسائل درپیش ہیں ان حالات سے نمٹنے کیلئے مسلمانوں کے پاس مستقل حل نہیں ہے۔ چند ایک تنظیموں اوراداروںکے پاس بیت المال کا نظام ہے مگر ان میں بھی مالی وسائل کی قلت ہے باقی جو تنظیمیں وادارے ہیں انکے پاس ایسا کوئی ذریعہ نہیں ہے کہ وہ اپنے حلقوں میں درپیش مسائل کو حل کرنے کیلئے بیت المال کا استعمال کریں۔ اس وقت بھارت کے مسلمانوں کیلئے سب سے بڑا مسئلہ صحت وتعلیم کا ہے جس سے نمٹنا مسلمانوں کیلئے ضروری ہوگیا ہے۔ حالانکہ حکومتی سطح پر ان طلباء وطالبات کو اسکالرشپ جاری کئے جاتے ہیںاور غریب مریضوں کے علاج کیلئے مختلف اسکیمیں موجود ہیں مگر افسوسناک پہلو یہ ہے کہ آج بھی کئی ایسی بیماریاں ہیں جن کیلئے حکومت سے مالی امداد نہیں دی جاتی اورآج بھی کئی ایسے کالجس واسکول ہیں جہاں پر حکومت سے ملنے والی اسکالرشپ نہ کافی ہوتی ہےاورغریب وضرورتمند طلباء ومریض اس کمی سے بے دم ہوجاتے ہیں۔ کئی بچے جو ضرورتمند ہیں اورجن کی استطاعت نہیں ہوتی وہ اپنی تعلیم کو جاری رکھنے کیلئے مختلف تنظیموں سے امید لگائے بیٹھے رہتے ہیں کہ کوئی آئے اورانکے تعلیمی اخراجات برداشت ہیں۔ اسی طرح سے اسپتالوں میں زیر علاج مریض جن کیلئے ایک ایک روپیہ بھی قیمتی ہوتا ہے انکی مالی امداد کیلئے کسی بھی طرح کی پیش رفت نہیں ہورہی ہے۔ بون کینسر، گردوں کی بیماریاںجیسے مسائل سے نمٹنے کیلئے لاکھوں روپئے درکار ہوتے ہیں مگر ان لاکھوں روپیوں کو مسلمانوں کی وہ آبادی جو سطح غربت سے نیچے ہے کیسے اداکریگی۔ جب کبھی ایسے مسائل پر گفتگو کی جاتی ہے اورامیروں وشرفاءسے مالی امداد کی درخواست کی جاتی ہے تو انکے یہاں سے مالی امداد کم مشورے زیادہ ملتے ہیں، کوئی یہ کہتا ہے کہ سی ایم فنڈ میں دیکھنا تھا، کوئی کہتا ہے ایم پی فنڈ میں دیکھنا تھا، کوئی کہتاہےکہ فلاں سیٹ کے پاس جاناتھا، کوئی کہتاہےبینک سے تعلیم کیلئے قرضہ لینا تھا، کوئی کہتاہےفلاں تنظیم سے بات کرنی تھی، کوئی کہتاہےکہ رمضان میں ہم زکوۃ نکال دیتے ہیں، کوئی کہتاہےکہ ہم نے تو فلاں مریض کی پچھلے سال اتنی مدد کی ہے اسطرح سے جو مریض علاج کا طلب گار ہوتا ہے وہ یاتو تڑپ تڑپ کر مرجاتاہے یا پھر قوم کی بے حسی کا شکارہوکر معذور ، لاچارہوکر بستر پر پڑجاتا ہے۔ اسطرح سے قوم کا ایک فرد اپنے وجود کو کھودیتا ہےاوراسکی روح قیامت کے دن یقیناً سوال کریگی کہ ہم نے آپ سے مدد مانگی تھی، آپ نے مدد کرنے کے بجائے مشورہ دے کر خالی ہاتھ لوٹادیا۔ کئی لوگ جو کینسر جیسے امراض میں مبتلاء ہیں وہ مرض سے زیادہ بیماری کی پریشانی لیکر ہلاک ہوجاتے ہیں۔آج امت مسلمہ کےبڑے طبقے کے پاس مال ودولت کی کمی نہیں ہے جتنا مال ملت کے پاس ہے اتنی بڑی شادیاں وہ کرتے ہیں، جتنا مال امت کے پاس ہے اس سے کہیں زیادہ مال ودولت سے وہ اپنے بنگلے تعمیر کرواتے ہیں۔مگر ملت کے خرچ کے معاملے میں جسطرح سے بخیلی کا مظاہرہ کرتے ہیں اسکے لئے تو وہ خدا کی بارگاہ میں جوابدہ ہیں مگر دنیا میں انکا دل بھی کیسے مانتا ہے کہ کسی مجبور کی مدد کرنے کیلئے وہ تیار نہیں ہوتے، لیکن اپنی ضروریات کو ضرورت سے زیادہ بناکر ضرورتیں پوری کرلیتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ اس وقت بھارت میں مسلمانوں کو اپنے معمولی ضروریات کیلئے بھی حکومتوں پر منحصر ہونا پڑرہا ہے۔ لیکن اسلام میں بیت المال کا ایک بہترین کانسپٹ پیش کیا ہے۔ اگر اس کانسپٹ کو محلہ وارسے لیکر ملکی سطح تک لے جایا جائے تو بہت بڑا کام ہوسکتا ہے جس کا اندازہ لگایا جائےتو کوئی مسلمان غریب نہیں رہ سکتا یا کوئی مسلمان لاچار نہیں رہ سکتا۔ مثلاً اس وقت سمجھ لیں کہ ہمارے شہر میں 80 مساجد ہیں۔ ہر مسجد میں بیت المال کے نام پر ایک ایک نمازی 10 روپئے بھی جمع کرےتو اوسطاً ایک ہزار روپئے کا چندہ ہوگا۔ 80 مسجدوں کے 80 ہزارروپئے ایک جمعہ میں ہوئے تو 4 جمعہ کے 3لاکھ 20 ہزارروپئے ایک مہینے میں ہوگئے اوراسی کو 12 مہینوں میں جمع کیا جائے تو 38 لاکھ 40 ہزارروپئے یہ کم ازکم اوسط سے جمع ہونے والی رقم ہے۔ ممکن ہے کہ اس رقم میں اوربھی اضافہ ہواوراس رقم کو کم سے کم سالانہ 300 بچوں کی فیس اداکرنے کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے یا پھر کم سے کم بڑے بڑے علاج کیلئے اس رقم کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔ مگر ہمارے پاس بیت المال کا کانسپٹ ہی نہیں ہے اورہم یہ سمجھتے ہیں کہ بیت المال صرف لاوارث میتوں کی تجہیز وتدفین کیلئے یا پھر شادی بیاہ میں جائےنماز، لال چادراورقرآن کی پیٹھی، دینا ہی بیت المال کی ذمہ داریوں میںسے ہیں۔ جب تک مسلمانوں میں بیت المال کے نظام کو مضبوط نہیں کیا جاسکتا اورجب تک اسکا فائدہ مستحق افراد کو نہیں پہنچایا جاتا تب تک مسلمانوں کی فلاح وبہبودی کیلئے حکومتی اداروں کے منصوبے کافی نہیں ہوںگے۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ بیت المال کو قائم کرنایا بیت المال کیلئے فنڈ جمع کرنا تو امیروں کا کام ہے تو یہ غلط بات ہے ،مڈل اور اپّر مڈل کلاس کے لوگ بھی اس کام کا آغاز کرسکتے ہیں۔ اپنے اپنے حلقوں میں اس کی شروعات کریں پھر دیکھیں کہ کسطرح سے کام ہوتا ہے۔ مسلم عمائدین، تعلیم یافتہ افراداورعلماء ونوجوانوں کو چاہئے کہ اس سمت میں غوروفکر کریں اوربیت المال کے نظام کو منظم طریقے سے رائج کرنے کیلئے پیش رفت کریں۔
