بیجاپور:۔سال 2005میں تاریخی شہر بیجاپور میں ملی وملکی مسائل کے پیش نظر مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر کے علماء وذمہ داران پر مشتمل ضلعی سطح کا ایک ادارہ بنام’’ مسلم متحدہ کونسل‘‘ قائم کیاگیا جس کے ذریعہ ملک وملت کے حساس مسائل کو دانشمندانہ طریقۂ کار کے ذریعہ حل کرنے کی کامیاب سعی کی جارہی ہے جو آفتاب نصف النہار کی طرح روشن ہے۔ ضلع بیجاپور کے مسلمانوں کو جہاں بے حد اطمینان ہے کہ ہمارا یہ ادارہ ہمہ وقت اپنی خدمات انجام دے رہاہے وہیں غیر مسلموں کے ساتھ ساتھ ضلع انتظامیہ کو بھی معلوم ہے کہ مسلم متحدہ کونسل بڑی مضبوط ومستحکم اورفعال تنظیم ہے۔سال2019 میں مسلمانوں کے عائلی مسائل جیسے طلاق، خلع ، وراثت کے معاملات کو احکام شریعت کی روشنی میں حل کرنے کے لیے اور مسلم مردوخواتین و خاندانوں کو پولیس اسٹیشن وکورٹ کی صعوبتوں سے بچانے کے لیے ضلعی سطح پر ایک دار القضاء قائم کیا گیا جس میں قاضی شرع ونائبین قاضی کی حیثیت سے تمام مکاتب فکر کے نمائندہ علماء کا انتخاب عمل میںلایاگیا تاکہ ملت اسلامیہ سے تعلق رکھنے والے تمام طبقات کے مسائل کو باہمی مشورہ واحکام شریعت کے مطابق حل کیاجاسکے۔ بیجاپور کا دار القضاء اس حیثیت سے منفرد ہے کہ پورے ملک میں اس طرز پر متحدہ دار القضاء شاذ کہیں نظر آتاہو۔ 2019سے جنوری 2022تک کم وبیش 200؍مقدمات دار القضاء میں رجسٹر کیے گئے ہیں جن میںسے 141؍ مقدمات حل کیے جاچکے ہیں، بقیہ مقدمات زیرسماعت ہیں۔ کچھ عرصہ کوروناوائرس کی وجہ سے دار القضاء کی نشستیں منعقد نہ ہوسکیں۔مسلسل مہینے میں دومرتبہ دار القضاء کی نشست منعقد ہوتی ہے جن میں دار القضاء کے ذمہ داران کے ساتھ ساتھ ایک تجربہ کار وکہنہ مشق وکیل بشیرالزماں لاہوری اپنی گراں قدر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ دار لقضاء کی نشستوں کے دوران وطن عزیز ہندوستان کے دستور کے مطابق اور آئے دن وجود میں آنے والے قوانین کو پیش نظر رکھاجاتاہے اور بوقت فیصلہ تمام جزئیات کاجائزہ لے کر حکم شرع صادر کیا جاتاہے تاکہ فریقین کو مستقبل میں کسی بھی جہت سے پریشانی نہ ہو۔ مسلم متحدہ کونسل ضلع بیجاپور کے ذمہ داران صوبۂ کرناٹکا کے علماء وارباب علم ودانش سے خصوصی طورپر اور ملک کے تمام ذمہ دار علماء کرام وارباب حل وعقد سے عمومی طورپر ملتمس ہیں کہ بیجاپور کے دار القضاء کی طرز پر دار القضاء کا نظام تشکیل دیں تاکہ کسی ایک محدود فکر کی حدنہ رہ کر آفاقی فکر کے ساتھ ملت اسلامیہ کی خدمت کی جاسکے جومسلمانوں کے تمام طبقات کی نمائندگی کرتاہو۔ نیز مسلمانان ہند کوچاہئے کہ وہ اپنے عائلی مسائل کو لے کر پولیس اسٹیشن یا کورٹ براہ راست جانے کے بجائے دار القضاء میں اپنے مسائل کا حل احکام شریعت اور ملکی قوانین کی روشنی میں حاصل کریں۔ ائمہ مساجدوخطباء کرام مسلسل دار القضاء کی اہمیت پر خطاب کرتے ہوئے عامۃ الناس کو ترغیب دلائیں۔مساجد کے متولیان، صدر واراکین وجمیع سماجی تنظیموں کے ذمہ داروں سے بھی خصوصی گزارش کی جاتی ہے کہ وہ اخلاص کے ساتھ مسلمانوں کے عائلی مسائل کو حل کرنے کے لیے دار القضاء کی جانب رہنمائی فرمائیں۔
