کیرےبلچی :۔ یہاں رضیہ شادی محل میں منعقد کوؤئڈ ویکسین بیداری اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے رکن اسمبلی و چیرمن کے یس ڈی سی یل ۔ کے ماڈال ویرپاکشپا نے کہا کہ جو لوگ اس ملک میں پیدا ہوئے وہ سب اسی ملک کے ہیں انہیں الگ سے شہریت کوئی معنی نہیں سب آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ بھائی چارگی و مساوات ضروری ہیں ایک دوسرے کے تیئن وہم بدگمانی بھی اچھی بات نہیں زمانہء دراز سے یہ سلسلہ چلا آرہا ہے کہ کسی بھی وبائی بیماری کی روک تھام کے لئے ویکسین لگائے جاتے ہیں پچھلے سال 2019ء میں کورونا نامی ایک وبا کا ظہور ہوا جس کی زد میں بہت ساری انساںی جانین تلف ہوگئی مگر دنیاں کے دوسرے ملکوں کے بل مقابل بھارت نے اس وبا سے حفاظت کے لئے ویسکسین تیار کرلیا جس کے لگانے سے انسانی جسم میں قوت مدافعت بڑھتی ہے اور اس سے انسان کے وبا کاشکار ہونے کے امکانات کم ہوجاتے ہیں ۔ اب یہ ویکسین ملک میں ہندؤں کو الگ مسلمانوں الگ بنائے نہیں گئے ہر کسی کو ایک ہی طرح سے ویکسین دئے جارہے ہیں مگر اس گاؤں میں کچھ فیس بک وغیرہ کے ذریعہ پھیلائی گئی افواہوں پر توجہ کے اثرات کے یہاں لوگوں میں ویکسین لینے کے معاملے میں عدم دلچشپی پائی گئی جس کے پیش نظر یہ بیداری اجلاس منعقد کیا گیا ۔ لوگوں کو چاہئے کہ کسی بھی افواہ پر توجہ نادین ویکسین ضرور لیں اس کے دو ڈوز لئے ہوئے افراد کو اگر پازیٹئو آبھی جاتا ہو تو مرنے کے معاملات نہیں ہونگے ان پر کنٹرول کر لیا جاسکتا ہے ۔ ویکسین کو ہندو مسلم نام سے جوڑنا یا بی جے پی سازش کہنا یہ سب بیکار بحث ہے یہاں پر تمام لوگ تعلیم یافتہ ہیں اس کے باوجود ویکسین لینے میں اسقدرعدم دلچشپی تعجب خیز ہے۔ خطیب و امام جامع مسجد مولاناذاکر حسین لطیفی نے ویکسین کی اہمیت و افادیت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔اس موقع پر تحصیلدار پٹاراجو گوڈا، تعلق پنچایت ایکزیکٹیوافسر پرکاش ، تعلق ہیلتھ آفیسر پربھو ،سنتے بنور سرکل انسپکٹر مہیش ، ڈاکٹر مہالکشمی ،گرام پنچایت رکن نسیم جان نے بھی ویکسین کے تعلق سے اپنے اپنے خیالات کااظہارکیا۔اس موقع پرجامع مسجد کے خطیب وامام مولانا ذاکر حسین لطیفی کے علاوہ اکثر لوگوں نےویکسین لگوائے ۔ اجلاس میں گرام پنچایت صدر درکشنماودیگر اراکین ، سب انسپکٹرشیوردرپا میٹی ،پنچایت ڈیولپمنٹ افسرشیرین تاج کے علاوہ دیگر افراد موجودتھے۔
