دہلی:۔وزیر اعظم کی مبینہ سیکورٹی چوک کیس کی تحقیقات کرنے والی سپریم کورٹ کی انکوائری کمیٹی کی چیئرپرسن اندو ملہوترا اور سابق جج جسٹس اندو ملہوترا کو دھمکیاں موصول ہوئی ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق انہیں سکھ فار جسٹس (ایس ایف جے) تنظیم کی جانب سے دھمکی دی گئی ہے۔ تنظیم نے دھمکی آمیز آڈیو کلپس بھی جاری کیے ہیں۔ دھمکی میں کہا گیا ہے کہ انہیں وزیر اعظم مودی اور سکھوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔ اس آڈیو کلپ میں مبینہ طور پر یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ معاملہ کی تحقیقات کو آگے نہ بڑھائیں۔تنظیم نے اپنی مبینہ دھمکی میں مزید کہا ہے کہ ہم سپریم کورٹ کے سابق جج کو کسی بھی حال میں اس معاملہ کی تحقیقات نہیں کرنے دیں گے۔ اس کلپ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہم سپریم کورٹ کے وکلا کی فہرست بھی بنا رہے ہیں اور ان سبھوں کا حساب لیا جائے گا۔ آڈیو کلپ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے قبل ہم نے وکلا کو خبردار کیا تھا۔ مسئلہ پی ایم مودی اور سکھوں کے درمیان تھا، لیکن آپ (اندو ملہوترا) نے ایس ایف جے کے خلاف شکایت درج کرائی اور اپنے آپ کو خطرناک پوزیشن میں ڈال دیاہے۔خیال رہے کہ ہمارا ادارہ اس آڈیو کلپ کی تصدیق نہیں کرتا۔ یہ بھی قابل غور ہے کہ اس معاملہ میں سپریم کورٹ کے کئی وکلاء کو مبینہ دھمکی آمیز کالز موصول ہوئی تھیں۔اس سے قبل 10 جنوری کو سپریم کورٹ کے متعدد وکلا نے دعویٰ کیا تھا کہ انہیں ریکارڈ شدہ دھمکی آمیز پیغامات کے ساتھ ایک بین الاقوامی کال موصول ہوئی ہے۔ اس میں انہیں سپریم کورٹ میں معاملہ نہ اٹھانے اور مودی کی سیکورٹی مبینہ چوک کے معاملے کی سماعت میں مدد نہ کرنے کی دھمکی دی گئی۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ کال سکھ فار جسٹس (SFJ) کی طرف سے آئی ہے۔ مبینہ طور پر اس پیغام میں گزشتہ بدھ کو پنجاب میں مودی کے قافلے کو روکنے کی ذمہ داری بھی لی گئی ہے۔واضح ہو کہ5 جنوری کو وزیر اعظم نریندر مودی نے پنجاب کے فیروز پور کا دورہ کیا تھا۔ شدید بارش کے باعث وزیراعظم کوہوائی پرواز کے بجائے سڑک سے جانا پڑا ،تاہم اس دوران مظاہرین حسینی والا سے 30 کلومیٹر دور راستے میں ہی نظر آئے جس کے باعث ان کا قافلہ تقریباً 20 منٹ تک انتہائی غیر محفوظ مقام پر کھڑا رہا۔ دہشت گرد انہ واقعات کے علاوہ جس علاقے میں پی ایم مودی کا قافلہ رکا تھا وہ ہیروئن اسمگلروں کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ گزشتہ سال ستمبر میں بھی اسی علاقہ میں دہشت گردی کا واقعہ پیش آیا تھا۔
