اُمت مسلمہ کے نوجوانوں سرسری طورپر جائزہ لیں، دیکھیں کہ کس طرح سے نوجوان نسل بے راہ روی کا شکار ہیں،جب تک بچے اسکول جاتے ہیں،اُس وقت تک وہ اپنے ماں باپ کے فرمابردار رہتے ہیں اور جیسے ہی وہ کالج جانے لگتے ہیں یا پھر روزگار پر لگتے ہیں تو ایسا محسوس کرتے ہیں وہ اپنی مرضی کے مالک ہیں اور کسی کی سننا ان کیلئے بے عزتی کی بات ہوگی،یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کے بچے بڑی تعدادمیں اب غلط راستہ اختیارکرچکے ہیں اور وہ کسی کی سننے کیلئے تیارنہیں۔خصوصاً ڈرگس کے عادی ہونا صرف اُن کیلئے تشویشناک نہیں بلکہ پوری قوم کیلئے تشویش کا باعث ہے۔آج نوجوانوں کا ایک بڑا طبقہ ڈرگس،شراب نوشی، جوئے بازی اور نہ جانے کتنی برائیوں کا مرکب ہوتاجارہاہے۔دراصل نشہ کرنےو الے نوجوانوں کا ایک بڑا طبقہ نشے کو استعمال کرنا فیشن سمجھ بیٹھاہے اور وہ خود بھی جانتے ہیں کہ نشہ کرنے سے انہیں کوئی راحت نہیں ملے گی۔آج مسلم معاشرے میں طلاق وخلع کے معاملات میں بھی مسلسل اضافہ ہورہاہے،اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ نوجوانوں کا نشہ کا عادی ہونا اور نشے کی وجہ سے جسمانی وذہنی کمزوریوں کا شکارہونا بھی ہے۔خود میڈیکل فیلڈ یہ ثابت کرچکی ہے کہ نشہ کرنے والے تمباکو نوشی کرنے والے، سگریٹ پینے والے نوجوان، گٹکاکھانے والےنوجوان مردانہ کمزور کا شکارہوتے ہیں۔باوجود اس کے نوجوان نسل ان عادتوں کو چھوڑنے کیلئے تیارنہیں ہے۔سب کے بچے اپنے لئے اچھے ہوتے ہیں اور اچھے بچوں کو کوئی روکتا ٹوکتانہیں ہے،لیکن سماج کے ذمہ دار ان نوجوانوں کی اصلاح ،تربیت،ذہن سازی کیلئے آگے آتے ہیں تو یقیناً نوجوانوں کی نسل کو تباہ و برباد ہونے سے بچایاجاسکتاہے۔غورطلب بات یہ بھی ہے کہ مسلمانوں کے حکیموں کا بڑا حصہ مردانہ کمزوریوں کے علاج کیلئے دوائی دیتاہے،لیکن نشے سے چھٹکاراپانے کیلئے تحقیق کم ہوئی ہے اور اس کیلئے ادویات بھی کم بنائے گئے ہیں اور اس کی مارکیٹنگ بھی کم ہوئی ہے ،کیونکہ ان حکیموں کا فوکس مردانہ کمزوری ادویات کو فروخت کرتے ہوئے زیادہ منافع کماناہے،نہ کہ نوجوانوں کو نشے کی عادتوں سے ہٹاکر اُمت کے مستقبل کو سنوارناہے۔اس وقت کورونا سے زیادہ وباء نشہ کی پھیلتی جارہی ہے،اس وباء سے نسل درنسل تباہ ہونے کے امکانات زیادہ ہیں۔ا ب وقت آگیاہے کہ اس وباء کو ختم کرنے اور اُمت کے نوجوانوں کو نشے سے پاک کرنے کیلئے تحریکیں چلانے کاآغاز کریں،ورنہ ہمارے نوجوان اندر سے ہی دیمک کھائے ہوئے تختی کی طرح بن جائینگے۔ اُمت مسلمہ کے اہلِ علم حضرات اپنی تقریروں،اپنی فکرمیں نشے سے پاک سماج کی تشریح کریں تو زیادہ فائدہ ہوگا،جب ہوش میں رہے گیں تب جنت کی راہ دکھائی دیگی لیکن جب ہوش ہی نہ رہے گا تو وہ کیسے شریعت ،معرفت،واحدنیت اور توحید کو سمجھ پائینگے۔کوشش کریں کہ مسجدکے منبر اور اسٹیج سے بھی اُترکر اس سمت میں کام کریں اور تنظیمیں ڈونیشن،الیکشن ،سلیکشن اور فنکشن کے سُر کوچھوڑ کر نوجوانوں کاکرکشن کریں۔