کوروناکی تیسری لہرمیں اسپتالوں کو لگا زبردست جھٹکا

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر نمایاں
بنگلورو:۔کوروناکی پہلی اور دوسری لہرکے دوران اسپتالوں کی چاندی ہی چاندی رہی،جو اسپتال کبھی گنے چنے بھی نہ جاتے تھے وہ بھی آباد ہوچکے تھے،پہلی لہر سے زیادہ دوسری لہرمیں کوروناکے مریضوں کا علاج کرتے ہوئے راتوں رات مالدار بن گئے تھے،لیکن کوروناکی تیسری لہر نے اسپتالوں کی اُمیدوں پرپانی پھیر دیااور جو اسپتال اس اُمید سے تھے کہ وہ کمائی کا موسم آچکاہے،انہیں شدید جھٹکالگاہے۔کوروناکے ساتھ امیکرون،ڈیلٹا،بلاک فنگس جیسی بیماریوں کے علاج کو لیکر بھی اسپتال بڑے پیمانے پر انوسمنٹ کرچکے تھے،لیکن تیسری لہر میں معمولی وائر ل فیورکے ان کے ہاتھ کچھ نہیں لگا۔بیشتر لوگوں نے گھروں میں ہی علاج کو ترجیح دی تو کچھ لوگوں نے گلی محلوں کے اسپتالوں کا رُخ کیا۔محکمہ صحت عامہ،آئی سی ایم آر اور آئی ایم اے نے بھی عام لوگوں کو کوروناکے خوف سےبھی کافی نجات دلائی ہے او رکئی لوگ خودہی اس خوف سے دوررہنے لگے تھے۔تیسرے مرحلے میں بظاہر کورونامریضوں کی تعداد ہزاروں میں پائی گئی ہے،لیکن اسپتال میں داخل ہونے والے مریضوں کی شرح بہت کم ہے،اس میں بھی آئی سی یو تک جانے والے مریضوں کی شرح صرف5 فیصد اور وینٹی لیٹر پر جانے والے مریضوں کی شرح ایک فیصد سے کم درج کی گئی ہے۔اسپتالوں نے کوروناکی تیسری لہر میں جم کر کمائی کرنے کیلئے آکسیجن سلنڈر،آکسیجن بیڈ،آئی سی یو بیڈ سمیت الگ الگ طریقوں سے تیاریاں کی تھیں،لیکن افسوس کی بات ہے کہ ان اسپتالوں کو مریضوں کی شکل میں گاہک نہیں ملے۔البتہ ڈولو جیسی پیراسوٹومل بنانے والی کمپنیوں کی اب بھی کمائی زوروں پر ہے ۔ اب کورونا سے لوگوں کی دوستی ہوگئی ہے تو کوئی خوفزدہ نہیں ہے۔