کیاکرناٹک کے مسلمان بزدل ہوچکے ہیں؟ حجاب،پردہ،برقعہ،اسلامی حصہ ہونے کے باوجود مساجدمیں بیداری کے تعلق سے نہیں اُٹھی آواز،جمعہ کے خطبوں میں روایتی ساز!

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر نمایاں
شیموگہ:۔اُڈپی،منگلورو،شیموگہ،بھدراوتی،کنداپور،شرنگیری،کوپہ سمیت ریاست کے مختلف مقامات پر مسلم طالبات پر ظلم کے پہاڑ ٹوٹ رہے ہیں اور مختلف طریقوں سے ستایا جارہا ہے ، لیکن کرناٹک کے نام نہاد قائدین ،لیڈران ، دانشوران ، سیاستدان اس قدر جاہل،درپک اور بزدل ہوچکے ہیں کہ وہ مسلمانوں کے حق کیلئے منہ کھولنا بھی گوارانہیں سمجھ رہے ہیں اور مسلم طالبات کیلئے آوازا ٹھانے سے گریز کررہے ہیں ۔ اُڈپی کی کالج کی دیکھا دیکھی میں اب کرناٹک کے مختلف کالجوں میں طالبات کو باحجاب آنے نہیں دیاجارہاہے اور قوم پرست لیڈران تقوے و پرہیز گاری کے دعویدار ہمت اور رہبری کے ذمہ دار لیڈران کو نہ جانے وہ کونسی بزدلی کاسایہ پڑچکاہے ،جس کے تحت وہ احتجاج کرنے ،اس بات کو عدالتوں تک لے جانے اور ایوانِ اقتدارتک پہنچانے کا کام نہیں کررہے ہیں ۔ کرناٹکا مسلم متحدہ محاذ جو الیکشن کی کنٹراکٹرہے اور اپنے آپ کو مسلمانوں کی نمائندہ جماعت کہلاتی ہے وہ کہاں رہے گئی ہے یہ سوال اُمت مسلمہ کررہی ہے۔ان کے علاوہ کرناٹک مسلم جماعت،جماعت اہلسنت ، جماعت اسلامی ، ایس آئی او،جمعیۃ اہلحدیث،سُنی جمعیۃ العلماء،ملّی کائونسل،جمعیۃ علماء ہند،(ارشد مد نی،محمودمدنی) کہاں غائب ہوچکے ہیں یہ بھی سوال اُٹھ رہاہے۔مسلم نمائندہ تنظیموں کی خاموشی پر عام مسلمان بے چین ہورہے ہیں ، ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ مسلم تنظیمیں فوری طور پر اس معاملے کو حل کرنے کیلئے کمر بستہ ہوتے اور ایوانِ اقتدار میں ہنگامہ برپا کرتے لیکن یہاں ایسا کچھ بھی دکھائی نہیں دے رہاہے ۔ وہیں کچھ تنظیمیں اس پورے مدعے کواپنے سالن میں بگارکیلئے استعمال کرنے کی مانند نظر آرہی ہے اور یہ تنظیمیں معاملے کو مزید پیچیدہ بناکرحالات کو خراب کرتے جارہے ہیں۔سوال یہ ہے کہ کیا مسلمان اس قدر بے حس ہوچکے ہیں وہ اپنی بچیوں کے حق کیلئے آوازنہیں اُٹھاسکتے؟اگر واقعی میں یہ بات ہے تو مسلم تنظیمیں اس بات کا اعلان کریں کہ ہمیں قوم کی بچیوں کے مسئلے سے کوئی لینا دینا نہیں ہم صرف تلوے چاٹنے والی قوم میں سے ہیں۔نمائندہ تنظیموں کے علاوہ کانگریس کے لائن، شیر، ببر شیر کہلانے والے ضمیر احمد،رضوان ارشد، تنویر سیٹھ، یوٹی قادر، نصیر احمد، سی یم ابراہیم، سلیم احمد جیسے یم یل ایز، شیرنی کہلانے والی کنیز فاطمہ بھی چپ چاپ بیٹھے ہوئے ہیں اور وہ بھی اس مدعے کو اگلے انتخابات میں ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی راہ پر ہونگے ۔دوسری طرف مساجدمیں جمعہ کے خطبوں کے دوران مسلمانوں میں حجاب،برقعہ ،پردے کے تعلق سے بیداری لانے کیلئے خصوصی خطبوں کی اُ مید کی جارہی تھی،مگر حالت حاضرہ پر روشنی ڈالنے کے بجائے آج بھی کئی مساجد میں روایتی خطبوں کا ساز رہا،وہی قصے،وہی باتیں اور وہی سزاو جزاء کی باتیں رہیں،اس کے علاوہ حالت حاضرہ پر تبصرہ کرنا گوارانہیں سمجھا۔جمعہ کے خطبے کے دوران علمائے کرام کی طرف سے اگر ان اہم مدعوں پر بات نہیں ہوگی تو اُمت مسلمہ کو حالت کے تعلق سے کون سمجھائیگا اور کس طرح سے مسلمان ان حالات سے نمٹنے کیلئے ذہنی طو رپر تیارہوگا۔یوٹی قادر جیسے اراکین اسمبلی نے تو یہ کہہ دیاہے کہ جن کو اپنی بیٹیوں کے نقاب اور حجاب کی فکرہے وہ بغیر حجاب والے کالجوں کو نہ بھیجیں،ان کی بیٹی شاہین کالج میں پڑھ رہی ہے،لیکن ہر کوئی شاہین کالج میں ہی پڑھانہیں سکتا،مگر جہاں بھی تعلیم حاصل کریں ، دین ودنیادونوں مساوی ہونی چاہیے،اس تعلق سے بیداری لانے کیلئے بھی تمام کو متحدہ طور پر پیش رفت کرنے کی ضرورت ہے۔ضروری نہیں ہے کہ پردے کے تعلق سے بیداری لانے کیلئے علیحدہ جلسے،جلوس،تقریریں وپروگرام منعقدکئے جائیں بلکہ موجودہ جمعہ کے موقع کو ہی غنیمت جان کر اس کا استعمال کیاجاسکتاہے۔اس وقت اُمت مسلمہ کے سامنے ہر دن نئے چیلنجس آرہے ہیں،ان چیلنجس کا مقابلہ کرنے کیلئے آسمانی طاقتوں کانزول نہیں ہوگا بلکہ عام مسلمانوں کو ہی اس کیلئے کمربستہ ہونے کی ضرورت ہے۔