ہمارے بڑے،کہاں ہیں کھڑے

ایڈیٹر کی بات سلائیڈر نمایاں
از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327
لگتا ہے کہ ریاست میں این آر سی سی ،سی اے اے اور این پی آرجیسے مدعوں پر پچھلے سالوں میں عام لوگ خصوصاً مسلمان خود سڑکوں پراُترآئے تھے اور بغیر کسی نام نہاد اور بڑے بڑے قائدین کے حکومتوں کو این آر سی اور سی اے اے کے تعلق سے سوچنے پرمجبورکیاتھا،اُسی طرح سےاب حجاب کیلئے بھی مسلمانوں کو خودہی آگے آناہوگا،کیونکہ مسلمانوں کی ملّی وسیاسی قیادت پھر ایک مرتبہ اپنے آپ کو کمزور ثابت کررہی ہے۔حال ہی میں سی ایم ابراہیم کی کانگریس سے منتقل ہونے کے معاملے کو لیکر مسلم علماء کا ایک وفد پریس کانفرنس کے ذریعے سے کانگریس کو دھمکیاں دے رہاتھاکہ مسلمانوں کے حق کونہ چھینا جائےا ور انہیں سیاسی انصاف دیاجائے۔یقیناً ایساہونا چاہیے تھا،لیکن شریعت سرپرست ،ایمان کے داعی اور اسلام کے شہسوار کہلانے والے مسلم علماء خصوصاً امیر شریعت مولانا صغیر احمد رشادی،مولاناافتخاراحمد قاسمی،مفتی شمس الدین بجلی،مولانا زین العابدالدین،مفتی شعیب اللہ ،مولانا اسلم احمدرشادی،مولانا تنویر ہاشمی،مولانا مقصود عمران رشادی کے علاوہ اور بھی کئی ایسے علماء ہیں جنہیں صف اول کی فہرست میں شمارکیاجاتاہے،لیکن حجاب کے معاملے کاآغاز ہوئے تقریباًچالیس دن کا عرصہ بیت چکاہے،اس طویل عرصے میں نہ تو الاعلان حکومت کی پالیسی کی مخالفت کی گئی نہ ہی اُمت مسلمہ کی ہمت باندھتے ہوئے حق کیلئے آواز بلندکرنے کا متحد ہونے کی دعوت دی،نہ تو کسی احتجاج کی قیادت کی نہ ہی احتجاج کیلئے کوئی منصوبہ عام لوگوں کے سامنے پیش کیا۔ایسے میں کرناٹکا وقف بورڈ کے شفیع سعدی نے یہ کہہ کر مزید اُمت مسلمہ کوتوڑاہے کہ یہ معاملہ محض چار پانچ لڑکیوں کا ہے۔اس طرح کے بیان سے معاملہ سیدھے طور پر مسلمانوں کے حق کو نقصان پہنچانے کے برابرہے۔آخر اُمت کے ملی قائدین کونسے مسئلے پر قوم کو آواز دینگے یہ سوالات پیدا ہورہے ہیں؟کیا پردہ،برقعہ اور حجاب دین کاحصہ نہیں ہیں جو ہمارے دینی قائدین اس پر بات کرنے سے گریز کررہے ہیں۔ہاں یہ بات سب کو معلوم ہے کہ حجاب ہمارا آئینی حق ہے،حجاب ہمارا دینی فریضہ ہے،لیکن اسی بات کو منوانے کیلئے کیونکر اہلِ ارباب سے ملاقات کیلئے تیاری نہیں کی گئی ہے۔آج مسلمانوں کو اس طرح سے لاچار چھوڑ کر شائد یہ محسوس کرواناچاہ رہے ہیں کہ آپ علماء کے بغیر کچھ بھی نہیں کرسکتے۔سیکھناہے مٹھوں کے اُن سوامیوں کے طریقہ کار سے جو اپنے کسی معاملے کو لیکر پوری قوم کو ساتھ لیکر سڑکوں پر اُترتے ہیں،لیکن جن کو شجاعت و قیادت کے علمبردار مانے جاتے ہیں وہ حکمت اور استقلال کی کھوکھلی رسی کو تھامے ہوئے نظرآرہے ہیں۔آخر وہ کونسی بلا ہے جو ہمارے اہل علم حضرات کو خوفزدہ کررہی ہے،آئیے اپنے حق کا مطالبہ کریں،کچھ نہیں ہوگا یا تو موت گلے لگائیگی یا کامیابی قدم چومے گی۔آج حجاب کو لیکر یہ باوال کھڑاکیاجارہاہے تو کل تمہارے کلے کی ادائیگی کیلئے بھی زبانیں روکی جائیگی تو کیا زائد وعابد بن کر بلوں میں ہی عبادتیں کرتے بیٹھو گے؟۔آج اُمت قیادت کیلئے تڑپ رہی ہے،چند نااہل و نادان قسم کے لوگوں کی قیادت کی وجہ سے اُمت کو نقصان ہوچکاہے،اب بھی ہورہاہے،لیکن آپ کو زہد وتقوے اور حکمت کے پیکرہیں تو کیونکر اس وقت قیادت کیلئے کمربستہ نہیں ہورہے ہیں۔حالات دن بدن خطرناک سے خطرناک ہوتے جارہے ہیں،مسلمانوں کی زندگیاں دائو پر لگ چکی ہیں،ایسے میں اب بھی کمربستہ نہیں ہوتے ہیں تو حالات بہت خراب ہوسکتےہیں اور آنے والی نسلیں ہماری اور آپ کی بزدلی کیلئے ہمیں یاد کریگی۔