شیموگہ:۔شیموگہ ضلع کی ایک کالج کی کم از کم 58 مسلم طالبات کو حجاب پہن کر جماعت کے کمروں میں جانے کی اجازت نہ دئے جانے پر احتجاجی مظاہرہ کرنے کے الزام میں معطل کرنے کی بات پرنسپال نے کی تھی،لیکن بعدمیں انہوں نے کہاکہ یہ جملہ میں نے صرف طالبات کو ڈرانے کیلئے کہاتھا،نہ تو تحریری طو رپر میں نے اس تعلق سے احکامات جاری کئے ہیں اور نہ ہی محکمے کو اس کی اطلاع دی ہے۔اطلاعات کے مطابق یہ تمام 58 طالبات شیموگہ ضلع کے شرالکوپہ کے گورنمنٹ پری یونیورسٹی کالج میں زیر تعلیم ہیں۔پرنسپل کے مطابق، کالج انتظامیہ، ڈیولپمنٹ کمیٹی نے حجاب پہن کر کلاسز میں جانے کی ضد کرنے والی طالبات کو عدالت کے عبوری حکم کے بارے میں سمجھانے کی کوشش کی تاہم انہوں نے ایک نہیں سنی اور حجاب پہننے پر بضد رہیں۔ لہذا انہیں عارضی طور پر کالج سے معطل کر دئیے جانے کی بات سامنے آئی تھی،لیکن ا س سلسلےمیں شیموگہ ضلع کے ڈپٹی کمشنر ڈاکٹرسیلوامنی نے کہاکہ طلباء کو معطل نہیں کیاگیاہے،یہ محض رسمی جملہ تھا،تاکہ بچے احتجاج کو چھوڑ کر کلاس روم واپس آئیں۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق مشتعل طالبات کی کالج عہدیداران کے ساتھ بحث ہوئی، جس کے بعد پولیس نے انہیں منتشر کرنے کیلئے مداخلت کی۔بیلگاوی، یادگیر، بیلاری، چتردگہ اور شیموگہ ضلع میں بھی اس وقت کشیدگی پھیل گئی جب حجاب پہنچ کر آئیں طالبات نے کلاسز میں جانے کی اجازت طلب کی۔ بیلگاوی کے وجے پیرا میڈیکل کالج کی انتظامیہ نے احتجاج کے پیش نظر تعطیل کا اعلان کیا ہے، وہی ہری ہر میں ایس جے وی پی کالج کی طالبات نے حجاب معاملہ میں چل رہی سماعت کے دوران کوئی بھی مذہبی علامت نہیں پہننے کے فیصلے کے بعد کلاسز سے محروم ہونے کے خلاف کلاسز کا بائیکاٹ کر دیا۔اس کے علاوہ بیلاری کے سرلا دیوی کالج میں حجاب پہن کر آئیں طالبات کو جب کلاسز سے باہر کر دیا گیا تو وہ کھیل کے میدان میں جمع ہو گئیں۔ انہوں نے پولیس سے بات کرنے سے انکار کر دیا اور انہیں پریشان نہیں کرنے کی درخواست کی۔ ادھر، کوڈاگو میں حجاب پہن کر آئیں طالبات نے گیٹ کے سامنے تختیاں لیکر احتجاجی مظاہرہ کیا۔
