25نوجوان پڑے500 پر بھاری; آزاد نگر میں بھی پتھر بازی کے بعد کی جوابی کارروائی

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر نمایاں
شیموگہ:۔شیموگہ میں جہاں ایک طرف شرپسند اپنی حماقتوں کو انجام دینے کیلئے کمربستہ تھے،وہیں پولیس اپنے پاس اختیارات رکھتے ہوئے بھی سیاسی دبائو کے ماتحت کمزور نظرآرہی تھی،آج صبح جب آزاد نگر وکلرک پیٹ سے بجرنگ دل کے کارکن ہرشا کی میت لے جائی جارہی تھی،اس دوران آزادنگر کے قریب پہنچتے ہی جلوس میں شامل نوجوانوں نےپتھر بازی شروع کی ،جس کی وجہ سے محلے میں لوگ پہلے تو سہم گئے بعدمیں اینٹھ کا جواب پتھر سے دیاگیا،جسے دیکھ کر سنگھ پریوارکے لوگ وہاں سے رفوچکر ہوگئے۔تقریباً آدھے گھنٹے تک اس محلے میں پتھر بازی ہوئی،مگر پولیس کھل کر تماشہ بین ہوکر رہی۔اس دوران کئی نوجوانوں اور خواتین کو چوٹیں بھی آئی ہیں۔دوسری طرف شہرکے اردو بازارمیں بھی قریب پانچ سو تا آٹھ سو شرپسندوں پرمشتمل گروہ اچانک اقلیتی علاقےپر حملے کرنے پہنچا،اس موقع پر پولیس کی تکڑیاں موجود تھیں،مگروہ انہیں روکنے کے بجائے اپنا مقام چھوڑ کر بھاگ گئے،جس کے بعد مجبوراً مسلم نوجوانوں کو حالات کو قابو میں لانے کیلئے قدم اٹھانے پڑے،قریب25 نوجوان ان700 افراد پر بھاری پڑے،پوری شدت کے بعد یہ نوجوان اُن پر ٹوٹ پڑے ،نعرے تکبیر اللہ اکبرکے نعرے سے یہ شرپسند موقع پر سے فرار ہوگئے۔آزادنگرمیں مقامی لیڈرنے اے ڈی جی پی کو بتایاکہ حالات اس قدر بدتر کیوں کئے جارہے ہیں ، اگر پولیس حالات پر قابوپانے میں ناکام ہورہی ہے تو بتادیں یا ہم رہیں گے یا وہ رہیں گے۔اس پر اے ڈی جی پی مرگن نے کہاکہ ہم کسی پر ظلم نہیں ہونے دینگے۔مگر جہاں کہیں بھی پولیس افسران جاتے ہوئے دکھائی دئیے تو وہاں پرمسلم خواتین نے پولیس اہلکاروں کو خوب آڑے ہاتھ لیا۔