شیموگہ:۔ضلع کے ہوسنگر تعلقہ میں موجود تاریخی کلورجمعہ مسجد( جامع مسجد)کی جانب سے ایک تاریخی قدم اٹھایاگیاہے جو دوسری مسجدوں اور اوقافی اداروں کیلئے مثال ہے۔ہوسنگر ٹائون میں موجود سرکاری اردو ہائر پرائمری اسکول جہاں پراساتذہ کی کمی ہے،اس اسکول میں انگریزی پڑھانے کیلئے ایک گیسٹ ٹیچرکی تقرری کی گئی تھی،اسکول کی ایس ڈی ایم سی کی جانب سے مسجد کمیٹی سے گذارش کی گئی تھی کہ حکومت کی طرف سے اس گیسٹ ٹیچرکو تنخواہ نہ ملنے کی وجہ سے مسائل پیداہورہے ہیں،اس لئے مسجدکی جانب سےماہانہ تنخواہ دی جائے۔وقف قانون کے مطابق مسجدکی آمدنی میں سے ایک حصہ تعلیم پر خرچ کیاجاسکتاہے،اس قانون کے مدِ نظرمسجدکمیٹی نے اسکول کی ٹیچرکو ماہانہ تنخواہ جاری کرنے کا فیصلہ کیااور تنخواہ کی پہلی قسط آج مسجدکمیٹی کے صدرباشاہ صاحب،سکریٹری ایچ آر عبدالرزاق نے بذریعہ چیک تنخواہ پیش کی ۔اس موقع پر اسکول کی میر معلمہ کے جی گیتا،معلمہ مرلن،ایس ڈی ایم سی صدر عبدالنثار،رکن محمد حنیف،توصیفہ وغیرہ موجودتھے۔واضح ہوکہ جہاں ایک طرف مسجدوں کی آمدنی اور اوقافی اداروں کی آمدنی وضو خانہ توڑ کر وضوخانہ بنانے،مینارپر میناربنانے بیت الخلائوں کو سال دو سال میں توڑنے اوربنانے میں خرچ کیاجارہا ہے ، وہیں دوسری جانب ہوسنگرکے کلورجمعہ مسجدکی کمیٹی نے تعلیم کیلئے جوخرچ کرنے کافیصلہ کیاہے وہ قابل ستائش ہے ۔اگریہی کام دوسری مساجد اور اوقافی اداروں کےذمہ داران کرنے لگیں گے تو یقیناًآمدنی کا صحیح استعمال ہونے لگے گا اور مسلمانوں کے تعلیمی مسائل کو بڑے پیمانے پر حل کیا جاسکتاہے ۔ اوقافی اداروں کے ذمہ دار اور مساجدکے ذمہ داران اس جانب توجہ دیتے ہیں تو بڑافائدہ ہوسکتاہے۔
