بنگلورو:کوویڈکی روک تھام کیلئے ریاستی حکومت نے ریاست بھر میں 14 دنوں کا لاک ڈائون جاری کیاہے ،اُس سے مزدور پیشہ لوگوںکی زندگی پر منفی اثرات پڑرہے ہیں۔اس بات کااظہار ویلفیر پارٹی آف انڈیاکے ریاستی صدر نائب صدر شری کانت سالیان نے کیاہے۔انہوںنے اس سلسلے میںاخباری بیان جاری کرتے ہوئے کہاکہ کوویڈکے تعلق سے ماہرین کی سفارشات کو رد کرتے ہوئے ریاست کی فلاح وبہبودی کو نظراندازکرتے ہوئے ساری ریاست کو انتخابات میں جھونک دیاتھا،جس کی وجہ سے کورونا خطرناک مرحلے میں داخل ہواہے۔لیبر ڈیولپمنٹ بورڈ میں جن لوگوںنے اپنے ناموں کا اندراج کیاہے،انہیں حکومت کوویڈ کے لاک ڈائون کے موقع پر2000 روپئے فی ہفتے کے حساب سے 8 ہزار روپئے ماہانہ اگلے تین مہینوں تک جاری کرےاورپچھلے سال کوویڈ سے متاثرہ افراد کو فی کس5ہزار دینے کا جو وعدہ ہواتھا اُس کی بھی رقم اب تک1لاکھ20 ہزار مزدوروں کو نہیں پہنچی ہےاور سرکاری سہولیات جیسے تعلیم،پینشن،شادی اور طبی علاج کیلئے جو عرضیاں دائرکرنی ہیں اُس کیلئے مزید تین مہینوںکی مہلوت دی جائے۔کوویڈکی دوسری لہرکے دوران پریشانی میں مبتلا بین الریاستی اور بین الاضلاع مزدوروں کے کھانے،قیام اور اگر وہ اپنے گھر واپس لوٹنا چاہتے ہیں توانہیں ٹکٹ کی سہولت فراہم کی جائے۔نائب صدر سالیان نے مطالبہ کیاکہ معاشی بدحالی کا شکارمزدوروںکوکسی بھی طرح کا پیاکیج جاری کئے بغیر اسپتالوںمیں آکسیجن ،بیڈاور طبی سہولیات دئیے بغیر لاک ڈائون کااعلان کرنا افسوسناک بات ہے۔حکومت کو چاہیے کہ وہ اس سمت میں فوری طور پر اقدامات اٹھائے۔
