شیموگہ: دیہی علاقوں میں ہر گھر کو پینے کا صاف پانی فراہم کرنے والے جل جیون مشن منصوبے کے نفاذ میں افسر ان اور عملہ کو تمام مراحل میں کاموں اوردستاویزات کے اندراج کو مناسب طریقے سےدیکھ بھالی کرنی چاہئے اوراس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ پروجیکٹ اور ریکارڈ کا مناسب انتظام ہوسکے۔اس بات کی ہدایت ضلع پنچایت سی ای او ایم ایل ویشالی نے کیا ہے۔ انہوں نے ضلع پنچایت کے میٹنگ ہال میں محکمہ دیہی ترقیات اور پنچایت راج ، دیہی پینے کے پانی اور صاف ستھرائی اور ضلع پنچایت کے زیر اہتمام جل جیون مشن منصوبے کے نفاذ کے مختلف مراحل پر تکنیکی عملے کیلئے دو روزہ ضلعی سطح کے تربیتی پروگرام کا افتتاح کیا۔انہوںنے کہاکہ منصوبے پر عمل درآمد کے حوالے سے کوئی تکنیکی مشکلات ہیں تو اس تربیت میں ٹیکنیکل اسٹاف کے ذریعہ حل کردیا جانا چاہئے۔پہلےمرحلے میں ہی تکنیکی خامیوں کو درست کرتے ہوئےتیکنیکی عملے کے کام کو برقرار رکھنا اور دفتری عملے کے ریکارڈ کو مناسب طریقے سے درست رکھتے ہوئے سو فیصد منظم کام ہونا چاہئے۔ریاست میں مرکزی حکومت کی طرف سے جاری شدہ اس اسکیم کےنفاذ میں تاخیر ہوئی ہے اور پہلے مرحلے کے کاموں میں تھوڑی جلدبازی کی گئی ہے اور انجینئروں کو سخت تاکید کی گئی ہے۔ تکنیکی عملے کی کمی نے تمام ہدایات پر عمل کرنا مشکل بنا دیاہےلیکن اب دوسرے مرحلے میں عملے کو خامیوں کو دور کرنے میں بہت محتاط رہنا ہوگا۔مزید انہوں نے کہا کہ دیہاتوں کا عملی منصوبہ مناسب طریقے سے تیار کیا جانا چاہئے۔ لوگ ہوشیار ہیںاسلئےافسران اورعملے کو احتیاط سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اچھی، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ساتھ کام صاف اور معیاری طریقے سے کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر انجینئرنگ کے تمام پہلوؤں کا خیال رکھا جائے تو یہ منصوبہ کامیاب ہو گا۔ضلع پنچایت کے ڈپٹی سکریٹری (انتظامیہ) ملیکارجن نے کہاکہ،ماضی میں دیہی علاقوں میں لوگوں کو پینے کے پانی کیلئے بہت محنت کرنی پڑتی تھی۔ اس مشکل کو دور کرنے کیلئے مرکزی حکومت نے ہر گھر تک پانی فراہم کرنے کیلئے جل جیون مشن جیسے اہم منصوبے کا نفاذ کیا ہے۔اس منصوبے کے تحت فی شخص کوایک دن میں 55 لیٹر پانی فراہم کرنےکا مقصد ہے۔ ریاست کے دیہی علاقوں میں تقریباً 25 لاکھ گھرانوں کواسکیم کافائدہ پہنچایا گیا ہے اورتقریباً 47 فیصد کامیابی حاصل ہوئی ہے۔اس موقع پر ضلع پنچایت کے ڈپٹی سکریٹری جے لکشمما اور دیگر عہدیدار موجود تھے۔
