نیویارک:۔قطر ورلڈ کپ کی تیاری کے دوران محنت کشوں کی مبینہ ہزاروں ہلاکتوں پر شدید تنقید کے بعد، اقوام متحدہ کے محنت کے عالمی ادارے (آئی ایل او)کے سربراہ نے کے روز فیفا کے صدر پر زور دیا ہے کہ وہ مستقبل کے ورلڈ کپ کے میزبانوں کی جانچ پڑتال میں زیادہ احتیاط سے کام لیں۔ایڈورٹائزنگ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے ڈائریکٹر جنرل گلبرٹ ہونگبو نے جیانی انفینٹینو سے ملاقات سے قبل اے ایف پی کو بتایا کہ قطر دہرے معیار کا شکار رہا ہے۔اس نے نمایاں پیشرفت کی ہے لیکن اپنے تارکین وطن مزدوروں کے لیے اسے مزید کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ہونگبو نے ایک انٹرویو میں کہا کہ آئی ایل او مستقبل کے امیدوار ممالک کے بارے میں مطلوبہ احتیاط سے کام لینے کی کوشش چاہتا ہے۔قطر میں مزدوروں کے حقوق پر برسوں کی تنقید کے بعد فیفا کو بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس میں ورلڈ کپ کی تیاری کے لیے بڑی تعمیراتی سائٹس پر ہونے والی اموات سے لے کر تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور خلیجی ریاست کی شدید گرمی میں کام کرنے کے مسائل شامل ہیں۔ہونگبو نے کہا کہ ان کا خیال ہے کہ فیفا اس بات کو یقینی بنانے کے لیے بہت پرعزم ہے کہ مستقبل کے ورلڈ کپ، یا اگلے میزبان ملک کے انتخاب کے لیے، سماجی مسائل، اور کارکنوں کے معیارات کے احترام جیسیسوال، فیصلے میں اہم ہیں۔ٹوگو کے سابق وزیر اعظم نے کہا کہ انسانی حقوق کے احترام میں کام سے منسلک حقوق اور خاص طور پر کام کی جگہ پر صحت اور حفاظت کو شامل کرنا ہوگا۔فیفانے، جو پہلے ہی اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے ساتھ کام کرتا ہے۔ میٹنگ کے بعد کہا کہ آئی ایل او کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر بات چیت ابھی مکمل نہیں ہوئی۔انفینٹینو نے ایک بیان میں کہا کہ ہم کئی سال سے محنت کے عالمی ادارے کے ساتھ منسلک ہیں اور ہم اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ہمارا نتیجہ خیز تعاون مستقبل میں بھی جاری رہے۔انہوں نے مزید کہاکہ کمپنیوں کی ایک قلیل تعداداب بھی غیر قانونی طریقے جاری رکھے ہوئے ہے اور اسی کے لیے ہمیں کام جاری رکھنا ہے۔آئی ایل و اس بارے میں بھی قطر پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ اپنا ڈیٹا اکٹھا کرنے میں بہتری لائے تاکہ محنت سے متعلق حادثات میں مرنے والوں کی تعداد پر تلخ بحث کو ختم کیا جا سکے۔قطر کی حکومت نے کہا ہے کہ 2014 سے 2020 تک حادثات میں 414، اموات ہوئی ہیں۔ جب کہ حقوق کے گروپوں نے یہ تعداد ہزاروںمیں بتائی ہے۔
