پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کا ایگزٹ پول ظاہر

سلائیڈر نیشنل نیوز
دہلی: راجستھان، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، میزورم اور تلنگانہ اسمبلی انتخابات 2023 کے ایگزٹ پول کے نتائج  آنے شروع ہوگئے ہیں ۔ تلنگانہ میں ووٹنگ جمعرات کو شام 5 بجے ختم ہو گئی، جبکہ باقی چار ریاستوں کے لئے ووٹنگ پہلے ہی ہو چکی ہے۔ پانچوں ریاستوں کے نتائج کا اعلان اتوار 3 دسمبر کو کیا جائیگا۔مدھیہ پردیش، راجستھان اور چھتیس گڑھ میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور کانگریس کے درمیان آمنے سامنے مقابلہ ہوگا، جبکہ تلنگانہ اور میزورم میں علاقائی جماعتوں کے درمیان دلچسپ مقابلہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ 3 دسمبر کو پانچ ریاستوں میں ووٹوں کی گنتی کے بعد صورتحال واضح ہو جائیگی کہ کس ریاست میں کس کی حکومت بنے گی اور کس کا جادو کہاں چلے گا۔پول آف پول ایگزٹ پول میں، تلنگانہ میں کانگریس اور بی آئی ایس کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ بی آر ایس کو 52 جبکہ کانگریس کو 54 سیٹیں ملنے کی امید ہے۔ اس کے ساتھ ہی اے آئی ایم آئی ایم کو 6 اور بی جے پی کو 7 سیٹیں مل سکتی ہیں۔ چھتیس گڑھ میں انڈیا ٹوڈے – ایکسس مائی انڈیا نے کانگریس کو 40-50 سیٹیں، بی جے پی کو 36-46 سیٹیں اور دیگر کو 1-5 سیٹیں ملنے کی پیشن گوئی کی ہے ۔ مدھیہ پردیش کے پول آف پول میں بی جے پی کو 112، کانگریس کو 113 اور دیگر کو 4 سیٹیں ملنے کی امید ہے۔راجستھان کے پول آف پول میں، بی جے پی کو 111 سیٹیں ملنے کی امید ہے، کانگریس کو 74 سیٹیں اور دیگر کو 14 سیٹیں ملیں گی۔چھتیس گڑھ کے پول آف پول میں کانگریس کو 47، بی جے پی کو 40 اور دیگر کو 3 سیٹیں ملنے کی امید ہے ۔ جن کی بات کے ایگزٹ پول کے مطابق راجستھان میں بی جے پی کی حکومت بننے کا امکان ہے۔ ایگزٹ پول میں بی جے پی کو 111، کانگریس کو 74 اور دیگر کو 14 سیٹیں ملنے کی امید ہے۔جن کی بات ایگزٹ پول مدھیہ پردیش میں بی جے پی اور کانگریس کے درمیان قریبی مقابلے کا امکان ظاہر کرتا ہے۔ اس کے مطابق بی جے پی کو 116، کانگریس کو 111 اور دیگر کو 03 سیٹیں ملتی نظر آرہی ہیں۔ٹی وی 9 نے مدھیہ پردیش میں بی جے پی کو 106-116، کانگریس کو 111-121 اور دیگر کو 00-06 سیٹیں ملنے کا اندازہ لگایا ہے۔ وہیں ریپبلک ٹی وی نے پیش گوئی کی ہے کہ بی جے پی کو 118-130 سیٹیں ملیں گی، کانگریس کو 97-107 سیٹیں ملیں گی جبکہ دیگر کو 0-2 سیٹیں ملیں گی۔پانچ ریاستوں کے ان اسمبلی انتخابات کو اگلے سال ہونے والے لوک سبھا انتخابات سے پہلے سیمی فائنل کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ چونکہ ان پانچ میں سے چار بڑی ریاستیں ہیں اور ان میں لوک سبھا کی کل 83 سیٹیں ہیں، اس لئے اس کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ حالانکہ سال 2018 میں جب ان پانچ ریاستوں میں انتخابات ہوئے تھے، تو راجستھان، چھتیس گڑھ اور مدھیہ پردیش میں کانگریس نے کامیابی حاصل کی تھی، تلنگانہ میں بی آر ایس کی حکومت بنی تھی اور میزورم میں میزو نیشنل فرنٹ کی حکومت بنی تھی، وہیں لوک سبھا انتخابات میں ان ریاستوں میں زیادہ تر سیٹوں پر جے پی نے جیت درج کی تھی۔