کانگریس کا مستقبل بابری مسجدکے ملبے میں دب گیا

ایڈیٹر کی بات سلائیڈر نمایاں

از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327
بھارت کی 135سال پرانی سیاسی جماعت کانگریس پارٹی اب اپنا وجود کھوتی جارہی ہے۔یہ وہی سیاسی پارٹی ہے جسے مسلمانوں نے اپنی سیاسی قیادت کیلئے منتخب کیاتھا،لیکن بعدمیں برہمنوں نے اس پارٹی پر قبضہ کرتے ہوئے مسلمانوں کو بے یارومددگارکردیاتھا،اسی سیاسی پارٹی میں مسلمانوں کو اس بات کا یقین دلایاتھاکہ وہ بھارت چھوڑکرنہ جائیں،بلکہ بھارت میں رہیں اور اس ملک کےبرابرکے شہری ہونے کا فائدہ اٹھائیں،یہ پرانے زمانے کی باتیں ہیں۔لیکن اس ملک کو تباہ برباد کرنے میں،اس ملک کے جمہوری نظام کو کھوکھلا کرنے میں اور اس ملک کی سب سےبڑی اقلیت کو نقصان پہنچانے میں کانگریس ہی ذمہ دار ہے۔دراصل کانگریس پارٹی کا زوال اندراگاندھی کے بعدان کے بیٹے راجیو گاندھی کےدورمیں ہی شروع ہواتھا جب انہوں نے9نومبر1989 میں بابری مسجدکی جگہ پررام مندرکی تعمیرکیلئے سنگ بنیادکی اجازت دی،اس کے بعد کانگریس پارٹی کے دورمیں ہی بابری مسجدکی شہادت ہوئی جس سے کانگریس پارٹی مسلمانوں کے دلوں سے ہٹنے لگی تھی،سوائے اُن مسلمانوں سے جو اس کے چاپلوس رہے ہیں۔کانگریس نے اپنی تباہی کا پہلاکیل رام مندرکے سنگ بنیاد سے اپنے پیروں پر ٹھوکااس کے بعدای وی ایم مشن لانے کا سہرابھی اسی راجیوگاندھی کے سرجاتاہے۔راجیو گاندھی کو کیا معلوم تھا کہ جس ای وی ایم مشن کو لیکر وہ پُر جوش تھے وہی ای وی ایم مشن ان کیلئے قبر کا کام کریگی۔اس سے بڑا نقصان کانگریس پارٹی کو اُس وقت ہوا جب راجیو گاندھی نے ووٹ دینے کی عمر21 سے گھٹاکر18 سال کی تھی۔آج دیکھئے کہ بھارت میں جو18 سال کے عمر کے نوجوان ہیں اُن پر مذہب کا جنون چھایاہواہے اور وہ بھارت کی ترقی کو لیکر نہیں بلکہ ذات پات کی بنیاد پر ووٹ دینا چاہتے ہیں۔جنہیں اپنا ناڑہ باندھنے کا طریقہ معلوم نہیں وہ بھارت کی حکومت کو چننے کا حق حاصل کرچکے ہیں۔اسی لئے بھارت میں کم عمرسے ہی نوجوان بچوں کومذہب کا افیم پلایاجارہاہے،جوغلطیاں راہل کے ابا نے راجیو نے کی تھی ،اُس کا خمیازہ ساری کانگریس کو اٹھانا پڑرہاہے۔دیکھئے غور کیجئے کہ راہل کے ابا راجیونے جو تین غلطیاں کی تھیں اُس کا خمیازہ سارے بھارت کواُٹھاناپڑرہاہے۔اس کی رہی سہی کسرسونیا گاندھی اور راہل گاندھی نے پوری کردی۔انہوں نے سافٹ ہندوتوا کے نام پر کہیں بھجن گائے تو کہیں تلک لگائے اور مسلمانوں کو دور کرنے لگے۔لگتاہے کہ بابری مسجدکی ہر ایک اینٹھ کانگریس پارٹی کوبدعا دے رہی ہے اور اس بدعا کا اثر کب ختم ہوگا اس کا جواب کانگریس پارٹی ہی دے سکتی ہے۔