حجاب معاملہ:کرناٹکاہائی کورٹ میں وکلاء کی بحث ختم،ججوں نے فیصلہ کیا محفوظ

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر نمایاں
اگر اسکول وکالج سیکولرہیں توسرسوتی پوجااور آیودھ پوجاکیوں کی جاتی ہے؟اڈوکیٹ طاہرنے پوچھا سوال
بنگلورو:۔کرناٹکا ہائی کورٹ میں آج حجاب کے سلسلے میں تمام وکیلوں کی بحث مکمل ہوئی اور عدالت نے فیصلے کو محفوظ رکھا۔آخری دن کی بحث میں مختلف وکلاء نے زبردست دلائل پیش کئے۔ابتداء میں اڈوکیٹ بال کرشنا نے اساتذہ پرسے زبردستی حجاب ہٹانے کی سی ڈی عدالت میں پیش کی گئی اور بتایاکہ یہ خواتین کے حقوق کی خلاف ورزی ہورہی ہے۔عدالت نے کہاکہ اس سلسلے میں متعلقہ محکموں میں شکایت درج کریں اور پولیس کو بھی اس کی شکایت درج کروائی جائے ۔جس ٹی وی چینل میں برقعہ اتارنے کی ویڈیو دکھائی جارہی ہے اس پر بھی شکایت درج کی جائے،یہ کہتے ہوئے عدالت نے اس عرضی کوخارج کردیا۔اس کے بعد اڈوکیٹ طاہرنےکیس نمبر 2146/2022پر بحث کرنے کی اجازت چاہی تو جسٹس ڈکشت نے کہاکہ اس سلسلے میں پہلے ہی اڈوکیٹ کامت نے بحث کی ہے،مزید بحث کی گنجائش نہیں ہے، اڈوکیٹ طاہرنے کہاکہ مگر اڈوکیٹ کامت نے اس سلسلے میں بحث کی ہے،اسی طرح سے اڈوکیٹ جھانے بھی ریاست کے اتحاد،تحفظ اور بقاء کے سلسلے میں بھی ایک پیٹیشن دائرکی تھی،جسے عدالت نے مختصر سی شنوائی کے بعد کہاکہ آپ کا مقدمہ اسکول کے معاملات سے میل نہیں کھاتاہے ،اس لئےآپ نےاس معاملے کی تحقیقات کو سی بی آئی اور این آئی اے کے ذریعے کروانے کی بات کہی ہے،مگریہ معاملہ اس سمت میں نہیں گیاہے اور یہ ایک مذہبی معاملہ ہے۔اس پر اڈوکیٹ جھانے کہاکہ ان معاملات میں بین الاقوامی عدالتوں کے فیصلے قابل قبول نہیں مگر میں یہ کہونگاکہ پی ایف آئی،کیمپس فرنٹ آف انڈیا،جماعت اسلامی ، ایس آئی او جیسوں کو سعودی یونیورسٹیز سے فنڈ مل رہاہے تاکہ بھارت کو اسلامی ملک بنایاجائے۔اس پر عدالت نے کہاکہ آپ کے پاس اس معاملے میں کوئی ثبوت ہیں تو وہ دیں۔اڈوکیٹ جھانے کہاکہ ایک نوجوان لڑکا ہرشا ہلاک ہواہے اور میں یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ یہ قتل سی ایف آئی نےکیاہے۔اس پر چیف جسٹس نے کہاکہ اس معاملے میں شنوائی جاری ہے ہم اسے ضروری نہیں سمجھتے۔اس دوران اڈوکیٹ جھانے کہاکہ اگر آپ اسلام کی بات کرتے ہیں تو یہ اسلام سعودی عرب سے شروع ہواہے،دو سال قبل یہاں خواتین کو ڈرائیونگ کرنے کی اجازت دی گئی، ہزاروں کی تعداد میں خواتین نے لائسنس کیلئے عرضیاں دی ہیں،اب سعودی شہزادہ یہ کہہ رہاہے کہ پہلے ملک کی ترقی چاہیے اسی لئے خواتین کو حقوق دئیے جائیں ۔اس موقع پر عدالت نے کہاکہ آپ کی بحث کو ختم کریں۔پھر عدالت نے بتایاکہ ہم آج اپنے فیصلے کومحفوظ کرنے جارہے ہیں۔اسی دوران اڈوکیٹ طاہرنے عدالت سے مزید کچھ معاملات پر روشنی ڈالنے کی اجازت طلب کی جسے بینچ نے اسے منظورکیا۔اڈوکیٹ طاہرنے کہاکہ سال2014 سےقبل کرناٹک میں سی ڈی سی نام کی کمیٹی ہی نہیں تھی،تو چیف جسٹس نے پوچھاکہ 2014 سے پہلے کیاتھا؟عدالت کو بتایاگیاکہ کالج بیٹر مینٹ کمیٹی،اس پر اڈوکیٹ طاہرنے کہاکہ جب2013 سے 2018 تک اراکین اسمبلی اپنے حلقوں کی نمائندگی کررہے تھے تو کیونکر کسی بھی طرح کا ریگولیشن جاری نہیں کیاگیا؟ حالانکہ سی ڈی سی کو کسی بھی طرح کے اختیارات نہیں دئیے گئے ہیں اور ا س کاکوئی بھی قانونی جوازنہیں ہے۔اگر اڈوکیٹ جنرل یہ کہتے ہیں کہ اگرچہ عدالت حجاب کو ضروری سمجھتاہے تو سب کو حجاب پہننا پڑیگا،چاہے وہ مرضی سے ہو یا نہ ہو،جبکہ نماز کا کوئی تنازعہ نہیں ہے،یہ اسلام کا ضروری حصہ ہے ، باوجود اس کے کچھ لوگ پڑھتے ہیں تو کچھ نہیں۔سینئر وکلاء کہہ رہے ہیں کہ اسکول وکالج سیکولر مقام ہیں تو میں یہ پوچھنا چاہونگاکہ سرسوتی پوجا اور آیودھا پوجا کیسے ہورہی ہے۔سرکاری حکمنامہ دراصل مذہبی امتیاز کو واضح کررہاہے۔اس پر چیف جسٹس نے کہاکہ یہاں کسی نے مذہبی امتیاز پر آرٹیکل14 کے تحت بحث نہیں کی گئی ہے۔اڈوکیٹ طاہرنے مزیدکہاکہ یکسانیت کے نام پر جو سیکولرزم قائم کیاگیاہے وہ صرف اقلیتوں پرنافذکیاجاتاہے،صرف اقلیتوں کو ہی اس کا نقصان اٹھانا پڑرہاہے۔عبوری احکامات میں دو چیزیں کہی گئی ہیں کہ حجاب اور زعفرانی شال۔جبکہ کسی نے زعفرانی شال پہننے کی شکایت نہیں کی ہے بلکہ حجاب پہننے کیلئے احتجاج کیاگیاہے۔عدالت یہ سمجھے کہ آج اسکول کو سیکولر مقام جانتے ہوئے حجاب پہننے سے روکاگیاتو کل شاپنگ مائول کو سیکولر مقام کہتے ہوئے اپنی تہذیب کو گھرکی چار دیواری میں محفوظ کرنے کا حکم دیاجائیگا۔اس کے بعد عدالت نے اپنا فیصلہ محفوظ کیااور وکلاء کو تحریری جواب پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے آج کی کارروائی ختم کی۔امکانات ہیں کہ اگلے ہفتے اس معاملے پر فیصلہ آئیگا۔