مسلمانوں کو حدیث چاہئے، شرعیہ چاہئے ، قرآن چاہئے لیکن ملک کا قانون نہیں : متالک کا متنازعہ بیان

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر

شیموگہ: اشتعال انگیز ومسلمانوں کے خلاف زہر اگل کر سرخیوں میں رہنے والے پرمود متالک نے آج پھر ایک مرتبہ متنازعہ بیان دیتے ہوئے مسلمانوں کو نشانہ بنایاہے اور کہاکہ مسلمانوں میں دیش بھکتی کا جذبہ پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے آج نامہ نگاروں سے بات کرتےہوئے کہا کہ بیشتر قوموں کے درمیان فسادات کانگریس کے دور میں ہوچکے ہیں۔ کانگریس کا وجود ہی مسلمانوں کیلئے ہے۔ سدرامیا جب سی ایم تھے، میسور میں 250 پی ایف آئی کارکنوں پرچل رہے مقدمات کو ردکردیاتھا،متالک نے سدرامیا سے کہاکہ یہ مسلمان تمہیں بھی نہیں چھوڑیںگے”۔”تمہارے نام میں سدھاہے اوررام ہے تمہیں نہیں چھوڑیں گے” کیونکہ یہ لوگ صرف اللہ پر یقین رکھتے ہیں۔مزید انہوں نے کہاکہ اشتعال انگیز بیان دیتےہوئے کہا کہ حجاب کے معاملے میں6 مسلم طالبات نےکورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ کورٹ کا درمیانی فیصلہ سنایا گیاہے ، لیکن اس فیصلے کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مسلم علماء نےاسکولوں اورکالجوں میں داخل ہوئے ہیں،اسکولوں و کالجوں میں علماء کا کیاکام ہے؟۔ دراصل انہیں دیش کا قانون نہیں چاہئے، انہیں صرف حدیث چاہئے، شرعیہ چاہئے، قرآن چاہئے ۔ اگر انہیںقرآن کی بنیاد پر ہی دیش چلانا ہے تو انہیں اسی ملک میں چلے جانا چاہئے جہاں پرانکے قرآن کی بنیاد پر ملک چلتاہے۔ کہتے ہوئے شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نےمسلمانوں کو خبردار کیا ہے کہ اگر مسلمانوں کو اس ملک میں رہنا ہےتو پہلے دیش بھکتی، آئین کا احترام کرنا سیکھنا ہوگا۔