شیموگہ میں حالات زیر قابو،لیکن اقلیتی برادری خوف کے سائے میں رہنے کیلئے مجبور

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
ایک طرف پولیس تو دوسری طرف شرپسندوں کا خوف،جوائنٹ آیکشن کمیٹی مناسب تحفظ فراہم کرنے کیلئے کررہی ہے کوششیں
شیموگہ:شیموگہ شہرمیں اس وقت حالات قابومیں ہیں اور شہر بھر سے کرفیو ہٹادیاگیاہے البتہ امتناعی احکامات جاری ہیں،صبح6 بجے سے شام7 بجے تک شہرمیں امتناعی احکامات میں ڈھیل دی گئی ہے جبکہ شام7 بجے کے بعد کاروباری مراکز بندکرنے کے احکامات دئیے گئے ہیں۔شہرمیں جہاں قتل کی واردات کے ملزمان کو عدالتی وپولیس تحویل میں  بھیجاگیاہے وہیں کئی مقامات پر مسلمانوں و دوسرے فرقوں کے لوگوں پر107 آئی پی سی کے تحت معاملات درج کئے گئے ہیں،اس کے علاوہ شہرمیں کئی اہم نوجوان جو ملّی وسماجی تنظیموں سے جڑے ہوئے ہیں انہیں پولیس پوچھ تاچھ کے نام پر بلارہی ہے،اسی طرح سے کئی نوجوانوں کو آنے والے دنوں میں گرفتارکئے جانے کے امکانات بھی ہیں۔ایک طرف پولیس کی حراسانی کوخوف تو دوسری طرف شرپسندوں کے ظلم کا خوف کھایاجارہاہے،کئی علاقوں میں مسلم افراد پر حملہ کرنے کی کوششیں ہونے کی بات سامنے آئی ہے،بعض جگہ پر ان وارداتوں کے ذریعے سے اقلیتوں کو خوفزدہ کرنا ہے تو بعض مقامات پر ہرشاکی موت کا بدلہ لینے کے امکانات ظاہرہورہے ہیں۔اس طرح سے مسلمان دونوں ہی طرف سے مظلوم ہوکر بھی مزید ظلم سہنے کیلئے مجبور ہورہے ہیں۔شرپسندوں کی طرف سے سازشوں کے جال تیزی کے ساتھ تیارکئے جارہے ہیں تو پولیس بھی مسلمانوں کی قیادت اور قائدانہ صلاحیت رکھنے والے نوجوانوں کے حوصلے پست کرنے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے۔شیموگہ شہرمیں اس وقت نمائندہ تنظیم کے طو رپر کام کررہی جوائنٹ آیکشن کمیٹی کی طرف سے ان حالات پر قابوپانے کیلئےکوششیں کی جارہی ہیں اور مختلف طریقوں سے قانونی طو رپر اقلیتوں کوتحفظ فراہم کرنے کی کوششیں ہورہی ہیں۔شہرمیں اس وقت حالات قابومیں ہیںباوجود اس کے ایک طرح سے انجان خوف اقلیتوں کو کھایاجارہاہے۔جبکہ مسلمانوں کی ریاستی قیادت سے اُمید لگانا بیکار دکھائی دے رہاہے۔