دہلی:۔سینٹر فار سائنس اینڈ انوائرمنٹ کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق گزشتہ دو دہائیوں میں ہندوستان میں پی ایم 2.5 آلودگی کی وجہ سے ہونے والی اموات میں 2.5 گنا اضافہ ہوا ہے۔ منگل کو مرکزی وزیر ماحولیات بھوپیندر یادو کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2019 میں ملک میں فضائی آلودگی کی وجہ سے ہر چار میں سے ایک موت ہوئی ہے۔ گرین تھنک ٹینک سنٹر فار سائنس اینڈ انوائرمنٹ (سی ایس ای) اور اس کی انوائرنمنٹ رپورٹ آف انڈیا کے مرتب کردہ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ دنیا میں فضائی آلودگی کی وجہ سے 60 لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے،ان میں سے 10.67 لاکھ اموات ہندوستان میں ہوئیں۔چین میں فضائی آلودگی کی وجہ سے 10.85 لاکھ افراد ہلاک ہوئے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2019 میں فضائی آلودگی سے وابستہ طبی اثرات کے نتیجے میں دنیا بھر میں زندگی کے پہلے مہینے میں4لاکھ76ہزارشیر خوار بچوں کی موت واقع ہوئی۔ ان میں سے ایک لاکھ16ہزاراموات ہندوستان میں ہوئیں۔ناقص ہوا کا معیار 2019 میں دنیا بھر میں فوری موت کا چوتھا سب سے بڑا عنصر ،جس نے ہائی بلڈ پریشر، تمباکو کے استعمال اور ناقص خوراک کو پیچھے چھوڑ دیا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں میں ہندوستان میںپی ایم 2.5 کی وجہ سے ہونے والی اموات میں 2.5 گنا اضافہ ہوا ہے۔ یہ 1990 میں 2,79,500 سے بڑھ کر 2019 میں 9,79,900 ہو گئی ہے۔
