کرناٹک میں سنگھ پریوار کا دہشت پارہ پر; شیموگہ کے بعد بلگام میں فرقہ وارانہ تشدد،پولیس کارروائی کے دوران دو افرادکی موت کاالزام

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
بلگام:۔کرناٹک کے بلگام ضلع کے آلند میں پچھلے تین دنوں سے جاری کشیدگی کے بعد آج پولیس کارروائی کے دوران دو افرادکی موت ہونے کاالزام پولیس پرعائدکیاگیاہے۔آلندہ گائوں میں اس وقت امتناعی احکامات جاری کئے گئے ہیں اور حالات کشیدہ بتائے گئے ہیں۔آلندہ شہرمیں امتناعی احکامات کی خلاف ورزی کرنے کے الزام میں آج صبح چار بجے پولیس نے گرفتاری مہم چلائی،اس دوران صوفیہ بیگم (41)اورفاروق انصاری(78) فوت ہوئے ہیں ۔ آج صبح پانچ بجے جب پولیس گھروں کے دروازے توڑکر گھروں میں داخل ہونے کی کوشش کررہی تھی،اس دوران صوفیہ بیگم کو دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے موت واقعہ ہوئی ہے،جبکہ فاروق انصاری کے ساتھ دھکے بازی کئے جانے کی وجہ سے ان کی موت واقعہ ہوئی ہے۔ان اموات کے بعد گائوں میں شدید برہمی دیکھی گئی ہے،جبکہ آلندہ پولیس تھانے کے انسپکٹرنے کہاکہ اس تعلق سے ایک بھی شکایت درج نہیں کی گئی ہے اور یہ بے بنیاد الزامات ہیں جو مقامی لوگ پولیس کوبدنام کرنے کیلئے لگارہے ہیں ۔ دریں ا ثناء امتناعی احکامات (آئی پی سی سیکشن 144) کی خلاف ورزی کرنے کے الزام میں80 سے زائد افرادکو تحویل میں لیاگیاہے۔پی ایس آئی کاکہناہے کہ ہم اس وقت یہ نہیں کہہ سکتے کہ جملہ کتنے افراد پر مقدمہ عائدکیاگیاہے۔دریں اثناء شیخ روزہ درگا ہ کے وکیل وہاج بابانے بات کرتے ہوئے کہاکہ جس طرح سے آلندہ پولیس امتناعی احکامات کی خلاف ورزی کرنے والے لوگوں کو تحویل میں لے رہی ہےاسی طرح سے حالات بگاڑنے والے رکن پارلیمان بھگونت خوبہ ،رکن اسمبلی راجکمار پاٹل تیلکر،بسواراج متی موڑو،سبھاش گتےدار،ہرشانند گتے دارکےخلاف بھی معاملہ درج کریں،کیونکہ انہوں نے ہی امتناعی احکامات کی مخالفت کرتے ہوئے حالات کو بگاڑنے کاکام کیا ہے ۔کیا ہے یہ معاملہ ؟ : ۔ منگل کی رات شیو راتری کی وجہ سے شہرمیں موجود صوفی لاڈلے مشائخ کی درگاہ کے قریب راگھوا چیتنیا کے مقبرے پر موجود شیولنگ کی پوجا کے تعلق سے یہ معاملہ بگڑا ہواتھا۔اس کے بعد حالات کو قابومیں لاتے ہوئے ڈپٹی کمشنرنے کہاتھا کہ 10 مسلمان صندل کریں اور10 ہندو شیولنگ کی پوجا کریں ۔ اس کے تحت درگاہ میں پولیس بندوبست کے درمیان بھگونت خوبہ کی نمائندگی میں دس سے زائد افراد دگارہ میں شامل ہوئے تھے جس کی وجہ سے یہ معاملہ فرقہ وارانہ رنگ اختیار کرچکاہے۔واضح ہوکہ صوفی لاڈلے مشائخ کے شمالی کرناٹک اور مہاراشٹرمیں لاکھوں معتقدین ہیں لیکن اس دفعہ ہندو مسلم کا کارڈ کھیلتے ہوئے فرقہ وارانہ تشددبرپاکرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔البتہ شیموگہ کے معاملے میں جس طرح سے نام نہاد ،خودساختہ کانگریسی لیڈران خاموشی اختیارکئے ہوئے تھے،بالکل اُسی طرح سے بلگام میں بھی کانگریس خاموشی اختیارکئے ہوئے ہیں جس کی وجہ سےچاروں طرف سے مسلمان ان خود ساختہ لیڈروں کی مذمت کررہے ہیں۔