شیموگہ: وزیربرائے خوراک و شہری فراہمی اومیش کتی کو وزارتی عہدےسے برخاست کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے این ایس یوآئی کارکنوں نے آج ڈپٹی کمشنر کے ذریعہ وزیر اعلیٰ کو میمورنڈم پیش کیا ہے۔تنظیم کا الزام ہے کہ ایک کسان نے وزیر اومیش کتی سے فون کے ذریعہ رابطہ کرکے سوال کیا کہ حکومت نے چاولوںکی تقسیم میں کمی کی ہےاور لاک ڈاؤن کی صورت میں غریبوں کی کمائی رک گئی ہے ایسے میں غریب مرجائےگا، تو اس سوال کے جواب میں وزیرخوراک نے کہا کہ عوام مرتی ہے تو مرجائے، ایک وزیر کا اسطرح کا بیان انتہائی قابل مذمت ہے۔این ایس یوآئی نے شدید برہمی کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ پہلے ہی روزمرہ کی ضروریات کی چیزوں کے دام آسمان چھورہے ہیں، عوام کا گذارا ہی مشکل سے ہوتاجارہا ہے، ریاستی حکومت عوام کے مفادات کو نہیں سمجھ رہی ہے اس پر لاک ڈائون کا ظلم ڈھایا گیا ہے۔جملہ طور پرکہا جائےتو تمام حالات میں غریبوں کی زندگی عذاب بنادی جارہی ہے۔ ریاستی حکومت کو فوراً غریبوں کی مدد کیلئے آگے آنے پر زور دیا ۔مزید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک اس طرح کے سنگین حالات سے دوچار ہورہا ہے ایسے حالات میں عوام کو تسلی دینے کی بجائے اومیش کتی جیسے مفاد پرست وزراء اپنے مغرور پن اوربدسلوکی کا رویہ نہیں بدل رہا ہے۔ انہیں وزیر کا عہدہ زیب نہیں دیتا ، حکومت کو چاہئے کہ وزیر خوراک اومیش کتی کو عہدے سے برخواست کردیںیاوزیر خوراک کو اگر عہدہ سنبھالہ نہیں جارہا تو انکی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ استعفیٰ دے دیں۔ اس موقع پر این ایس یوآئی لیڈر کے چیتن، ایچ ایس بلراج، روی، وجئے، ونئے، گریش وغیرہ موجودتھے۔
