اسپتالوں میں بستروں کی تعداد 50فیصد بڑھائی جائے: سدارامیا

اسٹیٹ نیوز
بنگلورو:۔سابق وزیر اعلیٰ اور ریاستی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر سدارامیا نے کہا ہے کہ ملک او ر ریاست میں کورونا وائرس کی صورتحال سے نپٹنے میں مرکز اور ریاست کی حکومتیں پوری طرح ناکام ہو چکی ہیں۔انہوں نے کہا کہ کورونا کی دوسری لہر کے دوران جو جانی نقصان اور عوام کو دشواری ہو رہی ہے، اس کے لئے حکومت راست طور پر ذمہ دار ہے۔ کرناٹک میں کورونا کا سلسلہ 14ماہ پہلے شروع ہو ا۔ دوسری لہر کا آغاز ہو ئے ایک ماہ کا عرصہ گزرچکا ہے۔ اس لہر کے دوران عوام کو جس طرح کی تکلیف اٹھانی پڑ رہی ہے، حکومت اس کو دور کرنے کے لئے ضروری قدم اٹھانے کی بجائے بے حس ہو چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ 21نومبر 2020کو پارلیمنٹ کی اسٹانڈنگ کمیٹی نے مرکزی حکومت کو رپورٹ پیش کی، جس میں متنبہ کیا گیا تھا کہ کورونا کی دوسری لہر اٹھنے والی ہے، اس کے لئے احتیاطی تدابیر اور انتظامات کرلینے کی سفارش کی گئی تھی، لیکن مرکزی اور ریاستی حکومتوں نے اس رپور ٹ کومکمل طور پر نظر انداز کردیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چار پانچ مہینوں کے دوران اسپتالوں میں بستر، آکسیجن، وینٹی لیٹر اور دواؤں کا ذخیرہ کرنے کے لئے ضروری قدم اٹھانے کی بجائے حکومتوں نے دیگر فروعی کاموں میں اپنا وقت ضائع کیا۔اسی لاپروائی کانتیجہ ہے کہ اب کورونا وائرس کی دوسری لہر نے جو تباہی مچائی ہے اس کو عوام جھیل نہیں پا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو کم از کم اب بیداری کا ثبوت دیتے ہوئے ضروری انتظامات جنگی پیمانے پر کرنے چاہئے۔سدارامیا نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ اسپتالوں میں بستروں کی تعداد کو 50فیصد بڑھایا جائے۔اسکولوں، کالجوں، ہاسٹلوں،شادی محلوں،کمیونٹی ہالس وغیرہ میں کورونا مریضو ں کے علاج کے لئے بستروں کا انتظام کیا جائے۔مریضوں کا علاج کرنے کے لئے ریاست بھر میں میڈیکل کالجوں میں زیر تعلیم فائنل ایئر کے طلباء کو متعین کیا جائے،اس کے ساتھ ہی نرسوں کا تقرر کیا جائے۔رضاکارانہ طور پر خدمات کے لئے آگے آنے والے غیر سیاسی افراد کو استعمال کیا جائے اور اس کے لئے انہیں ضروری تربیت سے آراستہ کیا جائے۔ ریاست بھر میں فی الحال وینٹی لیٹر اور آئی سی یو بستروں کی جو تعداد ہے، اسے آنے والے تین چار دنوں میں 40فیصد تک بڑھایا جائے۔ریمڈیسیور اور دیگر جان بچانے والی دواؤں کا وافر ذخیرہ کیا جائے۔ سدارامیا نے کہا کہ حکومت کی پوری توجہ صرف بنگلورو پر مرکوز نہ رہے بلکہ دیگراضلاع کی صورتحال سے نپٹنے کے لئے بھی ضروری قدم اٹھائے جائیں۔انہوں نے وزیر اعلیٰ بی ایس ایڈی یورپا سے کہا ہے کہ مرکزی حکومت کی طرف سے کرناٹک کو جو کورونا ویکسین دی جارہی ہے اس کے لئے کوئی رقم ادا نہ کی جائے بلکہ مرکزی حکومت سے مانگ کی جائے کہ یہ ویکسین مفت دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ یہ بات افسوس کا سبب ہے کہ زیادہ تر اموات نوجوانوں کی ہو رہی ہے۔ وہ نوجوان مر رہے ہیں جو اپنے خاندان کے لئے روزی روٹی کا واحد ذریعہ تھے۔حکومت کو اس پہلو پر بھی غو رکرنا چاہئے۔سدارامیا نے شہر کے معروف طبی ماہر ڈاکٹر دیوی پرساد شیٹی کے حوالے سے کہا ہے کہ ماہرین کی کمیٹی نے نومبر کے دوران حکومت کو جو رپور ٹ پیش کی، اس سے موجودہ حالات کافی خطرناک ہیں۔کمیٹی نے کہا کہ حکومت کو جتنے متاثرین کی تعداد کا خدشہ تھا اس سے پانچ گنا زیادہ متاثرین سامنے آ سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ریاست میں اگر روزانہ 40ہزار افراد متاثر ہو رہے ہیں تو متاثرین کی اصل تعداد 2لاکھ کے آ س پاس ہو سکتی ہے۔