بنگلورو:۔ کرناٹک میں پاپولر فرنٹ آف انڈیا اورسوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا پر پابندی لگانے کے امکان کو ریاستی وزیر داخلہ ارگا گیانیندرا نےیہ کہہ کر مسترد کردیا کہ ریاستی حکومت کی طرف سے ان دونوں تنظیموں پر پابندی لگانے کی کوئی تجویز فی الحال زیر غور نہیں، البتہ محکمہ داخلہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ ان تنظیموں اور اس سے جڑے کارندوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھی جائے۔ اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ارگا گیانیندرا نے کہا کہ پی ایف آئی اور ایس ڈی پی آئی پر پابندی کے لئے ریاستی حکومت کی طرف سے تجویز بہت پہلے ہی مرکزی حکومت کور وانہ کی جا چکی ہے۔اس سلسلہ میں فیصلہ مرکزی حکومت کو لینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان دونوں تنظیموں کی سرگرمیوں پر نظر رکھ کر اس کے بارے میں رپورٹ وقتاً فوقتاً مرکز کو روانہ کی جا چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ عوام میں اگر وزیر داخلہ یا کسی پولیس آفیسر کی بہت زیادہ تعریف ہو رہی ہے تو اس سے اندازہ لگالینا چاہئے کہ و ہ ٹھیک سے کام نہیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی پولیس آفیسر کی دیانتداری اس بات سے ہی ظاہر ہوتی ہے کہ مجرم پیشہ عناصر کے خلاف اس نے کس قدر سخت کارروائی کی ہے۔ اگر کارروائی کی ہے تو کم از کم وہ حلقہ اس آفیسر کی تعریف نہیں کرے گا۔لیکن اگر ہر حلقہ سے آفیسر یا وزیر کی تعریف ہی ہو رہی ہے تو اس کا مطلب یہی ہے کہ وہ اپنے کام کے تئیں مکمل طور پر دیانت دار نہیں۔انہوں نے کہا کہ ریاست میں نظم و ضبط مکمل طور پر قابو میں ہے،شیموگہ میں حالات بگڑنے کے بعد ان کو چند ہی گھنٹوں میں قابو میں کر لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کرناٹک میں چونکہ رواں سال انتخابی سال ہے، اس لئے تمام سیاسی جماعتیں متحرک ہو جاتی ہیں۔ہوسا نگر میں قتل کے الزام میں گرفتار ایک ذہنی مریض ملزم کو عدالت میں پیش کرنے کے لئے جب پولیس لے جا رہی تھی تو اس وقت ملزم کی طرف سے پولیس سب انسپکٹر کو کاٹ لئے جانے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اس کا ویڈیو وائرل ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ملزم کو پولیس نے جس بے رحمی سے پیٹا ہے وہ بھی غلط ہے۔ آلند واقعہ کے بارے میں تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ ریاست میں جہاں بھی امن وامان میں خلل ڈالنے کی کوشش ہو گی اس سے سختی سے نپٹا جائیگا۔
