کووڈ سینٹرکے طورپر مسجد کا استعمال نہیں کیا جاسکتا : دارالعلوم دیوبند

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر نمایاں نیشنل نیوز

دیوبند:۔دارالعلوم دیوبند نے فتویٰ جاری کرکے کہاکہ ہنگامی حالات میں بھی مساجد کو کووڈکیئر سینٹرکے طورپرراتعمال نہیں کیا جاسکتاہے۔ممبئی کے کرلا کے باشندہ عبدالباسط نے دارالعلوم دیوبند کے مفتیان کرام سے سوال کیا تھا کہ کورونا وائرس کی موجودہ صورت حال میں اس بات کا اندیشہ ہے کہ جس تیزی سے یہ وائرس پھیل رہا ہے آئندہ ہسپتالوں میں بیڈ کی قلت کا سامنا ہو سکتا ہے اور مریضوں کے لئے علاج کیلئے ہنگامی حالات پیش آ سکتے ہیں ،ایسی صورت میں عارضی ہسپتال کے قیام کی ضرورت پیش آ سکتی ہے بلکہ بعض علاقوں میں اس طرح کے ہنگامی حالات کا سامنا ہے ،ایسی صورت میں ہنگامی اور عارضی ہسپتال کیلئے ہر علاقہ میں بڑی تعداد میں سرکاری و نجی اسکول ،کالج اور یونیورسٹیوں کی بڑی بڑی سیکڑوں عمارتیں موجود ہیں جہاں ہنگامی حالات میں کووڈ سینٹر بنائے جا سکتے ہیں اور بآسانی ہنگامی و اضطراری ضرورت پوری ہو سکتی ہے ،اس کے باو جود بعض لوگ مساجد کو کووڈ سینٹر بنانے کی ترغیب دے رہے ہیں اور اسلام کی دعوت کا ذریعہ بتا رہے ہیں اور مسجد نبوی غیر مسلم وفود کی آمد سے استدلال کر رہے ہیں جبکہ کووڈ سینٹر قائم کرنے کی صورت میں مسجد کے مقاصد فوت ہو جانے کا قوی اندیشہ ہے ،نیز مسجد کا نجاست سے ملوث ہونا بھی یقینی ہے اور ملک کے موجودہ حالات میں مساجد میں تحفظات کا بھی مسئلہ ہے ،ایسے میں جب کہ ہنگامی حالات سے نمٹنے کیلئے مسجد کے علاوہ سیکڑوں متبادل موجود ہیں پھر بھی مسجد کو کوڈ سینٹر بنانے کا مطالبہ کرنا یا ازخود مساجد کو کووڈ سینٹر کیلئے پیش کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں اور اس کی ترغیب دینا دلانا اور ماحول سازی کرنا کہاں تک درست ہے برائے کرم مفصل و مدلل جواب سے آگاہ فرمائیں ۔دارالعلوم دیوبند کے مفتیان کرام، مفتی محمود بلند شہری،مفتی زین الاسلام، مفتی فخر الاسلام اور مفتی نعمانی کی جانب سے جاری جواب میں کہاگیاہے کہ مساجد کو کووڈ سینٹر بنانا جائز نہیں ہے، مسجد نبوی میں غیر مسلم وفود کی آمد پر قیاس کرنا صحیح نہیں ،مسجد کے مقاصد فوت ہو جائیں گے، مسجد کا احترام ختم ہو جائے گا اور مساجد کے نجاست میں ملوث ہونے کا قوی اندیشہ ہے مساجد کے علاوہ بہت سے متبادل مقامات سرکاری اور پرائیویٹ اسکول کالج ،شادی گھر وغیرہ موجو د ہیں جنہیں ہنگامی حالات میں کووڈ سینٹر بنایا جا سکتا ہے ۔