مذمت کی مذمت

ایڈیٹر کی بات سلائیڈر نمایاں

از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327
پچھلے کچھ دنوں سے بھارت میں حالات ناخوشگوار ہوتے جارہے ہیں،ہر دن،ہر صبح ایک چیلنج ،ایک پریشانی یاپھر ایک مسئلہ پیدا ہواہوتاہے،سمجھ میں نہیں آتاہے کہ کونسےمسئلے پربات کریں اور کونسے مسئلے کوحل کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں اور اس مسئلے کوکونسی تنظیم حل کرسکتی ہے اس کابھی کوئی اندازہ نہیں ہورہاہےاور نہ ہی ہونے والاہے۔اس وقت بھارت کے مسلمان نفسہ نفسی کا شکار ہوتے جارہے ہیںاور ان مسلمانوں کےدرد کا علاج کیاہے اس کا بھی کوئی حل دکھائی نہیں دے رہاہے۔ایسے میں جن لوگوں اور تنظیموں سے یہ اُمید کی جاسکتی ہے کہ وہ مسلمانوں کے دردکی دوا بن سکیں گے وہ لوگ بھی سوائے مذمتی بیان دینے،میمورنڈم دینے اور اخباری بیان جاری کرنے کے کچھ کام نہیں کررہے ہیں اور جوتنظیمیں سماجی انصاف اور سماجی حقوق کیلئے تشکیل دی گئی تھی وہ سیلاب کے بعد چھاتہ لیکر امدادی کام کرنے میں لگے ہوئے ہیں تو کچھ لوگ فسادات کے بعد اناج کے تھیلے بانٹنے کو اپنا ملٗی ودینی فریضہ سمجھ رہے ہیں اور جو تنظیمیں قومی سطح پر ہیں اُن کے پاس مدعے تو ہزاروں ہیں لیکن کام کرنے کیلئے کوئی راہ نہیں ہے،یہ لوگ بھی کپڑے بانٹنے،کھانا بانٹنے اورزیادہ سے زیادہ طلباء کو کتابیں و بستہ بانٹنے کی مہم سے جڑے ہوئے ہیں۔اس طرح سے مسلمانوں کی تمام ملّی وسماجی تنظیمیں دال چاول،روٹی کپڑا اور مکان تک محدودہوچکے ہیں۔لیکن جو حقیقت میں کام کرناہے اُس کام کو انجام دینا کوئی ضروری نہیں سمجھ رہاہے۔فسادات کے بعد لوگ ظلم وستم کا سامنا کرتے ہیں اُس وقت انہیں سماجی انصاف دلانے کیلئے پیش رفت کرنے کے بجائےصرف اخبارات میں مذمتی بیانات دیتے رہیں گے تو اس کا کیا فائدہ ہوگا؟۔عام طو رپر جب بھی فرقہ وارانہ فسادات ہوتے ہیں تو اُس وقت اتحاد و اتفاق کا نعرہ بلندہوتاہے اور اس اتحادکی گونج میں ہلکی سے آواز حق کیلئے عدالتوں سے رجوع ہونے کے تعلق سے ہوتی ہے اور اس پر جم کر واویلا مچایاجاتاہے اوراس بات کااحساس دلایاجاتاہے کہ مسلمان اب چپ رہنے والوں میں سے نہیں ہیں،لیکن یہ ہلکی سے آواز کب شوروغل میں گُم ہوجاتی ہے یہ کسی کوپتہ ہی نہیں چلتا۔آخرکب تک مسلمان چندے کے چاول اور منڈی کے مال کی سیاست پر لگے رہیں گے،کب اپنے حق کیلئے آواز بلند کرینگے،جو ظلم ہورہاہے اُس ظلم کے خلاف ٹھوس آواز اٹھائینگے اور جو مظلوم ہیں اُن مظلوموں کو انصاف دلانے کی خاطر حکومتوں سے آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات کرینگے؟اگرایسا ہواتو یقیناً مسلمانوں کو چندے کے چاول کی ضرورت نہیں پڑیگی۔