شیموگہ:سال2002 میں شیموگہ ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کے بعد گوگل نامی ایک نوجوان کا قتل ہواتھا،اس قتل کے ملزمان کی تلاش پولیس کو تھی،جیسے ہی اس قتل کے ملزمان کا پتہ لگاتو مسلمانوں کی ہی ایک ٹیم ان ملزمان کو پولیس کے حوالے(سرنڈر) کرنےاور پولیس کی زیادتی سے بچانے کے نام پر سیٹلمنٹ کرنے کا حوالہ دیتے ہوئے دو نوجوانوں کو پولیس تحویل میں بھیجاگیاتھا۔اس معاملے میں نہ تو سیٹلمنٹ ہوا نہ ہی ان ملزمان کو عدالت سے کوئی راحت ملی ،البتہ انہیں14 سال کی سزا کاٹنا پڑا۔سال2022 میں ہرشاکے قتل کے الزام میں شامل ملزمان کے ساتھ بھی شائد یہی دور پلٹ کر آیاہے،اس دفعہ بھی ملزمان کو پولیس کی زیادتی سے بچانے کے نام پرسرنڈر یعنی خودسپردگی کروائی گئی اور یقین دلایاگیاتھاکہ اس معاملے میں نوجوانوں کو جلد ضمانت ملے گی ایسا قدم اٹھایاجائیگا،مگر بدنصیبی کی بات یہ ہے کہ ان نوجوانوں کو جلد ضمانت ملنے کی بات تو دور اُلٹا ان پر یو اے پی اے جیسے سخت قوانین عائدکئے گئے ہیں جس سے انہیں فوری راحت ملنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔آئے دن مسلمانوں میں ایک گروہ ایسا سرگرم ہے جو پولیس کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے مسلم نوجوانوں کو کسی جرم کے بعد قانون کے سہارے انصاف دلانےکے بجائے سیٹلمنٹ اور سرنڈرکے نام پر استعمال کررہے ہیں اور کبھی کبھار ایک دو نوجوانوں کوتھانوں سے لے دیکر چھوڑوانے کے کام کو لیڈر شپ کہہ رہے ہیں۔اصل سماجی انصاف تو قانونی لڑائی لڑکر یا قانون کی چوکھٹ میں حاصل کیاجاسکتاہے لیکن مسلمانوں کا ایک طبقہ پولیس کی چاپلوسی،دلالی اور خوشنودی کو ہی قیادت کہہ رہاہے اور چاپلوسی سے جو کام کیاجارہاہے اُسے سماجی انصاف کا نام دیاجارہاہے۔افسوسناک بات یہ ہے کہ عام لوگ بھی ایسے بروکرس اور ایجنٹوں کو ہی اپنا قائد مانتے ہیں،بھلے ہی میر صادق ٹیپوسلطان کی فوج میں سپہ سالارتھا لیکن اسی سپہ سالارنے ٹیپوسلطان کو شکست دلوائی تھی اور اسے آج بھی غدار کہاجاتاہے،ایسے غداروں سےبچیں۔تاریخ اس بات کی گواہ ہےکہ نہ پولیس کبھی کسی کی ہوسکتی ہے اور نہ ہی خبری و دلال کسی کے ہوسکتے ہیں،اس لئے جرم سے بچیں اور جرم کی آڑمیں پھنس جاتے ہیں یا پھر پھنسایاجاتاہے تو دلالوں اور ایجنٹوں کے بجائے قانون کا سہارا لیں۔
